حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 35
حقائق الفرقان ۳۵ سُوْرَةُ الْمُؤْمِلِ مثیل موسی قرار دیا ہے۔اور آیت استخلاف سوره نور لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِم - (النور : ۵۲) فرما کر خلفائے امت مرحومہ کو خلفائے موسوی کا مثیل قرار دیا ہے۔چونکہ خاتم الخلفاء موسوی مسیح ناصری علیہ الصلوۃ والسلام تھے اور ان کی بعثت موسیٰ علیہ السلام سے تیرہ سو برس بعد چودہویں صدی موسوی پر ہوئی تھی۔اس لئے مماثلت کی مطابقت کے لئے ضروری تھا کہ مثیل موسی کا خلیفہ چودہویں صدی پر محمدی خلفاء کا خاتم مسیح کے نام پر آوے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ / مارچ ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۳) مثلیت موسی۔موسی کی پانچویں کتاب استثناء باب ۱۸ آیت ۱۷ تا ۲۲ ملا حظہ کرو۔اور خداوند نے مجھے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کہا۔سواچھا کہا۔میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے کہوں گا۔وہ سب ان سے کہے گا اور ایسا ہوگا کہ جو کوئی میری باتوں کو جنہیں وہ میرا نام لے کے کہے گا۔نہ سنے گا۔تو میں اس کا حساب اس سے لوں گا۔لیکن وہ نبی جو ایسی گستاخی کرے کہ کوئی بات میرے نام سے کہے۔جس کے کہنے کا میں نے اسے حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کہے تو وہ نبی قتل کیا جاوے گا۔اور اگر تو اپنے دل میں کہے۔میں کیونکر جانوں کہ یہ بات خداوند کی کہی ہوئی نہیں تو جان رکھ کہ جب نبی کچھ خداوند کے نام سے کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے۔پورا نہ ہو یا واقع نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی بلکہ اس نبی نے گستاخی سے کہی ہے۔تو اس سے مت ڈر۔اس بشارت کا بیان دو حصوں میں منقسم کیا جاتا ہے۔اول حصے میں اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ بشارت خاص محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں ہے۔اور دوسرے حصے میں یہ بیان کریں گے کہ جن لوگوں نے اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں نہیں مانا۔ان کے اعتراض صرف دھوکا ہیں۔لے ان کو ضرور خلیفہ بنائے گا زمین میں جیسے کہ خلیفہ بنایا ان سے پہلے والوں کو۔