حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 432
حقائق الفرقان ۴۳۲ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ خیر کثیر ہے۔جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہورہا ہے۔ایک ملاتو کہے گا کہ اعطینا صیغہ ماضی کا بمعنی مضارع ہے۔آخرت میں آپ کو حوض کوثر عطا ہو گا۔سلَّمنا۔اس میں کلام نہیں کہ آخرت میں حوض کوثر آپ کو عطا ہو گا مگر اس میں کیا شک ہے کہ دنیا میں جس کثرت سے آپ پر عطایات الہی ہوئے۔وہ بے حد و بے مثل ہیں۔کوثر کا لفظ کثیر سے مشتق ہے۔پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ایک صحابی ۲۰۰۰۰، ۴۰۰۰۰، بلکہ ۶۰۰۰۰ پر فاتح ہوا۔خود پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کام مقبلا نہ ایسا تھا کہ جس کی نظیر نہیں۔پنجوقت نماز آپ خود پڑھاتے تھے۔سارے قضا یا آپ خودہی فیصلہ کرتے تھے۔بیویاں جس قدر آپ کی تھیں ان کی خاطر داری اس قدر تھی کہ سب آپ سے خوش تھیں۔لوگ کہتے ہیں کہ اس زمانہ کی عورت کی پوزیشن ہی کچھ ایسی ہی تھی کہ زیادہ تکلفات نہ تھے۔مگر عورتوں کی جبلت کا بیان یوں فرمایا ہے کہ مرد کی عقل کو چرخ دینے والی عورتوں سے بڑھ کر اور کوئی مخلوق میں نے نہیں دیکھی کہ عقلمند مرد کی عقل کو کھو دیتی ہے۔عورتوں پر ہر بات میں تشد دمت کرو۔لڑکوں کو بھی مارنے اور سزا دینے کا میں سخت مخالف ہوں۔حضرت صاحب بھی لڑکوں کو مارنے سے بہت منع کیا کرتے تھے۔میں تو انگریزی پڑھا نہیں۔سنا ہے کہ یونیورسٹی کی بھی یہی ہدایت ہے کہ استاد طلبہ کو نہ مارا کریں۔باوجود ان تاکیدوں کے لوگ بچوں کے مارنے سے باز نہیں آئے اور سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہمارا فرض منصبی ہے وہ جھوٹ کہتے ہیں۔بہت لوگ ہیں کہ وعظ کرنا تو سیکھ لیتے ہیں مگر خود عملدرآمد نہیں سکھتے۔تمہارے ہاتھوں میں اب سلطنت نہیں رہی۔اگر تم اچھے ہوتے تو سلطنتیں تم سے نہ چھینی جاتیں۔( بدر جلد ۱۱ نمبر ۱۲ مورخه ۲۱ /دسمبر ۱۹۱۱ء صفحه ۲) الكوثر : نبی کریم کو جو چیز ملی کثرت سے ملی۔کتاب ملی تو جامع۔امت ملی تو خیر الامم۔حکومت ملی تو ابدی۔سپاہ ملی تو بے نظیر۔دونوں مشہور مذہبوں کے مرکز بھی آپ ہی کے ہاتھ پر فتح ہوئے پھر حوض کوثر۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ماه تمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۸)