حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 429
حقائق الفرقان ۴۲۹ و سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ کے لئے نہیں کہتا۔میں ایسے نمونوں کو ضروری سمجھتا ہوں اور ہر جگہ یہ نمونے موجود ہوتے ہیں۔میں خود ایک نمونہ ہوں جتنا میں بولتا ، کہتا اور لوگوں کو سناتا ہوں۔اس کا بیسواں حصہ بھی مرزا صاحب نہیں بولتے اور سناتے کیونکہ تم دیکھتے ہو۔وہ خاص وقتوں میں باہر تشریف لاتے ہیں اور میں سارا دن باہر رہتا ہوں۔لیکن ہم پر تو بدظنی بھی ہو جاتی ہے۔لیکن اس کی باتوں پر کیسا عمل ہے۔بات یہی ہے کہ اللہ کا دین الگ ہے اور وہ موقوف ہے ایمان پر۔منصو بہ باز چالاکیوں سے کام لینے والے بامراد نہیں ہو سکتے۔وہ اپنی تدابیر اور مکائد پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم یوں کر لیں گے۔مگر اللہ تعالیٰ ان کو دکھاتا ہے کہ کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔جب اس کا فضل ہوتا ہے تو اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دینے کے منتظر بنو۔اور یہ عطا منحصر ہی ایمان پر ہے۔اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ملا۔وہ سب سے بڑھ کر ملا۔شرط یہ ہے فَصَلِّ لِرَتِكَ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو۔نماز سنوار کر پڑھو۔نماز مومن کی الگ اور دنیا دار کی الگ، منافق کی الگ ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک نام ابراہیم بھی تھا۔جس کی تعریف اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَقُى (النجم : ۳۸) اور وہی ابراہیم جو اِذْ جَاءَ بِقَلبِ سلیم کا مصداق تھا۔اس نے سچی تعظیم امر الہی کی کر کے دکھائی اس کا نتیجہ کیا دیکھا، دنیا کا امام ٹھہرا۔اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم ہوتا ہے کہ تعظیم لامر اللہ کے لئے تو فَصَلِّ لِرَبِّكَ کا حکم ہے مگر شفقت علی خلق اللہ اور تکمیل تعظیم امر الہی کے لئے وانحر قربانی بھی کرو۔قربانی کرنا بڑا ہی مشکل کام ہے۔جب یہ شروع ہوئی۔اس وقت دیکھو۔کیسے مشکلات تھے اور اب بھی دیکھو۔ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔99 برس کی عمر تھی۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولا دصالح عنایت کی۔اسمعیل جیسی اولا د عطا کی۔جب اسمعیل جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دیدو۔اب ابراہیم علیہ السلام کی قربانی دیکھو۔زمانہ اور عمر وہ کہ ۹۹ تک پہنچ گئی۔اس ابراہیم کی کتابوں میں جس نے عہد پورا کیا۔ہے جب وہ صحیح سلامت دل کے ساتھ اپنے رب کے پاس آیا۔