حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 426 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 426

حقائق الفرقان ۴۲۶ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ مدارج عالیہ کی ترقی کے لئے اللهُمَّ صَل عَلی مُحمد کہ کر دعائیں مانگی ہوں گی۔پھر ان دعاؤں کے ثمرہ میں جو کچھ آپ کو ملا۔کیا اس کی کوئی حد ہو سکتی ہے؟ اگر دعا کوئی چیز ہے؟ اور ضرور ہے تو پھر اس پہلو سے آپ کے مدارج اور مراتب کی نظیر پیش کرو۔کیا دنیا میں کوئی قوم اور امت ایسی ہے جس نے اپنے نبی اور رسول کے لئے یہ التزام دعا کا کیا ہو؟ کوئی بھی نہیں۔کوئی عیسائی مسیح کے لئے۔یہودی موسی کے لئے۔سناتی شنکر اچارج کے لئے دعائیں مانگنے والا نہیں ہے۔اس دنیا کے مدارج کو تو ان امور پر قیاس کرو اور آگے جو کچھ آپ کو ملا ہے۔وہ وہاں چل کر معلوم ہو جاوے گا۔مگر اس کا اندازہ اسی ” بہت کچھ سے ہو سکتا ہے کہ برزی میں، حشر میں، صراط پر بہشت میں۔غرض کو ثر ہی کوثر ہوگا۔اس عاجز انسان اور اس کی ہستی کو دیکھو کہ کیسی ضعیف اور ناتوان ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ اس کے بنانے پر آ تا ہے تو اس عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا ہے۔اور ایک اجڑی بستی کو آباد کرتا ہے۔کیا تعجب انگیز نظارہ ہے۔بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکڑ باز مد بروں کو محروم کر دیتا ہے حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں اور علم و واقفیت کے ذرائع وسیع مثلاً اس وقت دیکھو کہ کسی بستی کو اس نے برگزیدہ کیا؟ جہاں نہ ترقی کے اسباب نہ معلومات کی توسیع کے وسائل، نہ علمی چرچے ، نہ مذہبی تذکرے، نہ کوئی دار العلوم، نہ کوئی کتب خانہ ! صرف خدائی ہاتھ ہے۔جس نے اپنے بندہ کی خود تربیت کی اور عظیم الشان نشان دکھایا۔غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا فرمایا۔لیکن غافل انسان نہیں سوچتا۔افسوس تو یہ ہے کہ جیسے اور لوگوں نے غفلت کی۔ویسی ہی غفلت کا شکار مسلمان ہوئے۔آہ۔اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے۔اور خود بھی ان سے حصہ لینے کے آرزو مند ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی کوثر عطا فرماتا۔میں دیکھتا ہوں کہ جھوٹ بولنے میں دلیر،