حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 421 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 421

حقائق الفرقان ۴۲۱ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک تقسیم فرمائی ہے کہ واعظ یامامور ہوتا ہے یا امیر یا متکبر۔امیر وہ ہوتا ہے۔جس کو براہ راست اس کام کے لئے مقرر کیا جاوے اور مامور وہ ہوتا ہے جس کو امیر کہے کہ تم لوگوں کو وعظ سنا دو۔اور متکبر وہ جو محض ذاتی بڑائی اور نمود کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔پس یہ اقسام واعظوں کی ہیں۔اب میں پھر تمہیں کہتا ہوں کہ اس بات پر غور کرو کہ تمہیں وعظ کہنے والا کیسا ہے؟ اور تم کیسا دل لے بیٹھے ہو؟ میرا دل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ناظر ہے جو بات میری سمجھ میں مضبوط آئی ہے اسے سنانا چاہتا ہوں اور خدا کے لئے۔پھر مجھے حکم ہوا ہے کہ تم مسجد میں جا کر نماز پڑھا دو اس حکم کی تعمیل کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور سناتا ہوں۔میں دنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود ، ان کے حوصلے چھوٹے، خیالات پست ہوتے ہیں۔جس واعظ کی اغراض دینی ہوں وہ ایک ایسی زبر دست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دنیوی وعظ سب اس کے اندر آ جاتے ہیں۔کیونکہ وہ ایک امر بالمعروف کرتا ہے۔ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا ہے اور ہر بری بات سے روکنے والا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ نے مھیمن فرمایا۔یہ جامع کتاب ہے جس میں جیسے ایک ملٹری ( فوجی ) واعظ کو فتوحات کے طریقوں اور قواعد جنگ کی ہدایت ہے۔ویسے ہی نظام مملکت اور سیاست مدن کے اصول اعلیٰ درجہ کے بتائے گئے ہیں۔غرض ہر رنگ اور ہر طرز کی اصلاح اور بہتری کے اصول یہ بتاتا ہے۔پس میں قرآن کریم جیسی کتاب کا واعظ ہوں جو تمام خوبیوں کی جامع کتاب ہے اور جو سکھ اور تمام کامیابی کی راہوں کی بیان کر نیوالی ہے۔اور اسی کتاب میں سے یہ چھوٹی سی سورۃ میں نے پڑھی ہے۔میں اس سورۃ کے مطالب بیان کرنے سے پہلے یہ بات بھی تمہارے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن شریف کا طرز بیان دو طرح پر واقع ہوا ہے۔بعض جگہ تو اللہ تعالیٰ ایک فعل کو واحد متکلم یعنی میں کے لفظ کے ساتھ بیان فرماتا ہے اور بعض جگہ جمع متکلم یعنی ہم کے ساتھ۔ان دونوں الفاظ کے بیان کا