حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 420
حقائق الفرقان ۴۲۰ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ قسم کے واعظوں کی اغراض ہمیشہ مختلف ہوتی ہیں۔کوئی فوجوں کو جوش دلاتا۔ان میں مستعدی اور ہوشیاری پیدا کرنے کے لئے تحریک کرتا ہے کہ وہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چست و چالاک ہو جائیں۔کوئی امورِ خانہ داری کے متعلق کوئی تجارت اور حرفہ کے لئے۔مختصر یہ کہ ان کی غرض انتظامی امور یا عامہ اصلاح ہوتی ہے جو دوسرے الفاظ میں سیاسی یا پولٹیکل تمدنی یا سوشل اصلاح ہے۔اور وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں۔ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو محض اس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرض ان کو ملا ہے۔اس کو ادا کریں۔بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں۔اور اپنے آپ کو اس خیر امت میں داخل ہونے کی فکر ہوتی ہے جس کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے۔كُنتُمْ خَيْرٌ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : 1) تم بہترین امت ہو جولوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو۔امر بالمعروف کرتے رہو۔اور نہی عن المنکر۔اور ایک وہ ہوتے ہیں جن کی غرض دنیا کمانا بھی نہیں ہوتی مگر یہ غرض بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف حاضرین کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا اُن کی واہ واہ کے خواہشمند کہ کیسا خوش تقریر یا مؤ ثر واعظ ہے۔دینی واعظوں میں سے پہلی قسم کے واعظ بھی فتوحات ہی کا ارادہ کرتے ہیں مگر ملکی فتوحات سے ان کی فتوحات نرالی ہوتی ہیں۔ان کی فتوحات یہ ہوتی ہیں کہ برائیوں پر فتح حاصل کریں۔نیکی کی حکومت کو وسیع کریں۔جیسے واعظوں کی دو قسم ہیں۔ایسے ہی سننے والوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔ایک وہ جو محض اللہ کے لئے سنتے ہیں کہ اس کو سن کر اپنی اصلاح کریں اور دوسرے جو اس لحاظ سے سنتے ہیں کہ واعظ ان کا دوست ہے یا کوئی ایسے ہی تعلق رکھتا ہے۔یعنی واعظ کی خاطر داری سے۔اب تم دیکھ لو کہ تمہارا واعظ کیسا ہے اور تم سننے والے کیسے؟ تمہارا دل تمہارے ساتھ ہے۔اس کا فیصلہ تم کر لو۔میں جس نیت اور غرض سے کھڑا ہوا ہوں۔وہ میں خوب جانتا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ در ددل کے ساتھ خدا ہی کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔