حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 419
۴۱۹ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ حقائق الفرقان نرالا لباس پہنے ہوئے عرفات کے میدان میں حاضر تھے۔اور لبيك لبيك پکارتے تھے تم سوچو اور غور کرو کہ تمہاری کل کیسی گزری۔کیا تم بھی خدا تعالیٰ کے حضور لبيك لبيك پکارتے تھے۔آج منی کا دن ہے۔آج ہی وہ دن ہے جس میں ابراہیم نے اپنا پاک نمونہ قربانی کا دکھلایا۔کوئی اس کی طاقت نہ رہی تھی جسے خدا پر قربان نہ کیا ہو۔نہ صرف اپنی بلکہ اولاد کی بھی۔یہ جمعہ کا دن ابراہیم کی قربانی اور مفاخر قومی کا روز ہے جس میں عرب کے لوگ قبل اسلام بزرگوں کے تذکرے یاد کر کے فخر کیا کرتے تھے۔اس میں خدا کا ذکر کرو جیسے فرمایا۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكُرِكُمْ آبَائِكُمْ (البقرہ: (۲۰۱) خدا کی یاد میں فریاد کرنے میں خدا کے حضور ساری قوتوں کو قربان کرنے کے لئے خرچ کرو پھر دیکھو کہ تمہارے کام کیا پھل لاتے ہیں۔انسان خوشحالی چاہتا ہے اور دشمنوں کی ہلاکت۔خدا تیار ہے، مگر قربانی چاہتا ہے۔اولاد پر نمونے دکھاؤ جیسے اسمعیل نے دکھایا۔پس نئے انسان بنو۔پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تم کو کس طرح کی کوثر دیتا ہے۔اور تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۷ مورخه ۱۲ رمئی ۱۸۹۹ء صفحه ۱ تا ۳) یہ ایک سورۃ شریف ہے بہت ہی مختصر۔لفظ اتنے کم کہ سننے والے کو کوئی ملال طوالت کا نہیں یہاں تک کہ ایک چھوٹا سا بچہ بھی ایک دن میں اسے یاد کر لے۔مگر ان کے مطالب اور معانی کو دیکھو تو حیرت انگیز۔ان کو بیان کرنے سے پہلے میں ایک ضروری بات سنانی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جہاں تک میں غور کرتا ہوں واعظوں اور سننے والوں کی دو قسم پاتا ہوں۔ایک وہ واعظ ہیں جو دنیا کے لئے وعظ کرتے ہیں۔دنیا کا وعظ کرنے والے بھی پھر دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو اپنے وعظ سے اپنی ذات کا فائدہ چاہتے ہیں یعنی کچھ روپیہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ خود کوئی روپیہ حاصل کریں۔مگر یہ مطلب ضرور ہوتا ہے کہ سننے والوں کو ایسے طریقے اور اسباب بتائیں جس سے وہ روپیہ کماسکیں۔مادی ترقی کر نیوالے بنیں۔دنیا کے لئے وعظ کرنے والوں میں اس اللہ کو یاد کرو جس طرح تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو۔