حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 413
حقائق الفرقان ۴۱۳ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ موجب حسرت ہوگا اور وہ مغلوب ہو جائیں گے۔پس کیا تو دیکھتا ہے کہ ان دشمنوں میں سے کوئی باقی ہے۔سو دیکھو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن بلکہ آپ کے خلفاء راشدین اور آپ کے نائیوں کے دشمن بھی ہر ایک نیکی سے ابتر ہوئے اور یہ امرظاہر ہے کوئی مخفی بات نہیں۔دیکھو۔ابوجہل کا کیا انجام ہوا۔اور ابن ابی بن سلول نے کیا نتیجہ پایا۔اور پادریوں کے لارڈ بشپ ابو عامر کو دیکھو جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں سارا زور خرچ کیا اور آگ کے گڑھے کے کنارے پر بڑی بنیادکھڑی کی اور پھر اسی آگ میں گرایا گیا اور اکیلا آوارہ بیکس اور بے بس ویرانوں کے اندر ہلاک ہو گیا۔پھر دیکھو کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوا جنہوں نے اہلِ عرب میں سے خلیفہ اول حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی اور پھر ان کا کیا حال ہوا جنہوں نے حضرت فاروق رضی اللہ عنہ کا مقابلہ کیا۔اگر چہ وہ بڑی سلطنتوں کے قیصر اور کسری تھے اور مصر کے ملک کے بادشاہ تھے۔اور پھر ان اہل افریقہ اور اہلِ خراسان کو کیا حاصل ہوا جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی تھی۔اور پھر انہوں نے کیا پایا جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کی اور ان کا کیا حال ہوا جنہوں نے معاویہ اور بنوامیہ کی تحقیر کی۔پھر اس کی مثال زمانہ حال میں موجود ہے۔دیکھو کہ ان لوگوں کا حال کیا ہو رہا ہے جنہوں نے ہمارے اس مبارک زمانہ میں چودہویں صدی کے مجد داور متکفل مہدی معہود اور مسیح موعود کی مخالفت کی مثال میں آریہ لیکھرام کو دیکھو اور نصاری کے شیطان آتھم کو دیکھو اور لدھیانہ کے سعد اللہ ابتر کو دیکھو۔ہر ایک اپنے گناہ کے بدلے میں پکڑا گیا۔اور اپنے بدلے کو پانے والا ہوا۔اور ان کے سوا اور بھی سب دشمن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کے خلفاء کے ہر ایک چیز سے ابتر اور بے نصیب ہیں اور ان کا ذکر خیر کے ساتھ ہونا بند ہو جاتا ہے اور ان کا اہل اور مال سب ابتر ہو جاتا ہے۔اور دین دنیا میں نقصان پذیر ہوتا ہے۔ان کی حیاتی اور ان کی صحت اور ان کی فرصت سب ابتر ہوتی ہیں۔وہ ان چیزوں سے نہ دنیا میں فائدہ اٹھا سکتا ہے اور نہ دین میں۔ان کے کان ایسے نہیں رہتے کہ وہ خیر کی بات سن سکیں۔اور نہ ان کو ایسی بصیرت نصیب ہوتی ہے کہ اللہ کو