حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 32
حقائق الفرقان سُوْرَةُ الْمُزَّمِّل سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قرآت کی کیفیت دریافت کی۔فرمایا کہ آپ ہر ایک آیت کو جدا جدا کر کے پڑھتے تھے۔مثلاً بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ـ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ کے چار ٹکڑے کرتے اور ہر ایک ٹکڑے کو علیحدہ علیحدہ پڑھتے۔ابوداؤد میں روایت ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ پیدا ہوں گے۔جو قرآن کو تیر جیسا سیدھا کریں گے۔وہ بہت جلد پڑھیں گے نہ ٹھہر ٹھہر کر۔دوسری روایت میں ہے کہ قرآن شریف ایسے لوگوں کے گلے سے نہیں اُترے گا۔ایک اور روایت میں لا یبقی مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسُمہ آیا ہے۔ایک اور روایت میں فرمایا ہے کہ جس نے تین دن سے کم میں قرآن شریف کو ختم کیا ، وہ نہ پڑھا ، نہ چپ رہا۔لَا قَرَاءَ وَلَا سَكَتَ۔اب تو بعض تراویح کے پڑھانے والے قاری ایک ہی شب میں جس کو وہ شبینہ کہتے ہیں۔قرآن شریف کو ختم کر دیتے ہیں۔إنَّا سَنُلْقِي عَلَيْكَ قَوْلًا ثَقِيلاً میں قول ثقیل قرآن کریم کی متواتر پے در پے وحی کو فرمایا ہے حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ ایک روز نہایت شدت سے سردی تھی۔آپ پر وحی نازل ہوئی اور آپ کی پیشانی مبارک سے وحی کی شدت کی وجہ سے پسینے کے قطرے ٹپکنے لگے۔اسی طرح اگر آپ کسی اونٹ پر سوار ہوتے اور وحی کا نزول شروع ہو جاتا تو اس کے پاؤں بوجہ نقل وحی ٹیڑھے ہونے لگتے اور اگر کسی صحابی کی ران پر آپ کا سر مبارک ہوتا یا تکیہ لگائے ہوتے اور ایسی حالت میں وحی کا نزول ہونے لگتا۔تو اس صحابی کو اپنی ران کے ٹوٹ جانے کا خوف ہوتا اور ایسی حالت میں آپ کا چہرہ مبارک زیادہ منور اور روشن ہو جاتا۔إِنَّ نَاشِئَةَ الَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْاً وَ أَقْوَمُ قِيلًا - نَاشِئَة بروزن عَاقِبَةُ مصدر نَشَأَ بمعنى قَامَ لِلْمُذَكَرِ نَاشِيُّ وَالْمُؤَنَّتُ نَاشِئَةٌ - اگر چہ عام طور پر امور حادثہ فی الیل کو ناشتہ کہتے ہیں۔مگر چونکہ یہاں ذکر قیام لیل کا ہے۔اس لئے ناشئة اليْلِ سے مراد اول شب سو رہنے کے بعد قیام نماز کے لئے اٹھنا نتشأة اور نشأة ہے وظنا مصدر بمعنی موافقت ہے۔كقوله تعالى لِيُوَا طِوَا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللهُ۔أَى لِيُوَافِقُوا لے سہو کا تب معلوم ہوتا ہے۔بمطابق لغت نشأة اور نَشَاءَةً مراد ہے۔