حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 31
حقائق الفرقان ۳۱ سُوْرَةُ الْمُزَّمِّل یہ کہتا ہے کہ کیا تو ہمارا ملازم نہیں؟ لیکن تنخواہ دینے کے وقت کہتے ہیں کہ کیا دوسرے کا کام نہیں کیا۔اس لطیف طریقہ سے حضرت یوسف علیہ السلام نے شرک کی برائیاں بیان کیں اور پھر یہ بھی کہا کہ انبیاء پر ایمان لانا اور خدائے واحد کو ماننا ضروری ہے۔إِنَّ لَكَ في النَّهَارِ سَبْحًا طويلا کے یہی معنے ہیں کہ انسان دل میں بھی ذکر الہی سے غافل نہ رہے۔واذكر اسم - رات کو علیحدگی میں اپنے مالک کو یاد کرو۔اگر تم کو یہ خیال پیدا ہو کہ ہم کو اس علیحدہ رہنے سے کیا فائدہ ہوگا ؟ تو یا درکھو کہ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا۔پس یاد رکھو کہ جس پاک ذات نے تجھ کو علیحدگی اختیار کرنے کو کہا ہے۔وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے۔اس کو اپنا کارساز سمجھو۔وہ تم کو سب کچھ دیگا۔پس میرے بھائیو! غور کرو۔تم نے دن میں بہت کام کیا ہے۔رات ہوگی۔سونا اور مرنا برابر ہے۔ایسے وقت میں سوچو کہ تم نے جناب الہی کی کس قدر یاد کی ہے۔( بدر حصّہ دوم ۲۸ نومبر ۱۹۱۲ء کلام امیر صفحه ۸۸٬۸۷) نِصْفَهُ أَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا اَوْزِدْ عَلَيْهِ۔چونکہ راتیں بڑھتی گھٹتی رہتی ہیں۔اس لئے متوسط راتوں میں نصف شب سے اور چھوٹی راتوں میں نصف سے کم کر کے اور بڑی راتوں میں نصف سے زیادہ بھی قیام کرنے کے لئے ارشاد فرمایا اور چونکہ ایک حکم قطعی نہیں ہے۔بلکہ دو جگہ آؤ ، اؤ فرما کر اختیار دیا ہے۔اس طبیعت کے نشاط پر بھی اس قیام کو حوالے کر دیا گیا ہے۔یعنی چھوٹی راتوں میں بحالت نشاط اگر قیام زیادہ کرلے اور بڑی راتوں میں بوجہ عدم نشاط طبیعت اگر قیام کم کر لے تو یوں بھی اختیار ہے۔مگر چونکہ تم بصیغہ امر ہے۔اس لئے قیام کئیل آپ پر فرض تھا جب کبھی بعض راتوں میں قیام کنیل آپ سے رہ گیا ہے تو آپ نے اس کو بعد طلوع آفتاب ادا فرمایا ہے۔ایک حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن شریف یاد کرنے والوں اور قیام کٹیل کرنے والوں کو اشراف امتی فرمایا ہے۔شرف کے لغوی معنے بلندی کے ہیں۔رَيْلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا - أَى بَيْنَهُ تَبْيِيْنًا وَفَضِلُهُ تَفْصِيلًا۔کسی نے حضرت اُم سلمہ