حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 407
حقائق الفرقان ۴۰۷ سُوْرَةُ الْكَوْثَرِ پر بھی آپ کے واسطے اجر ہے۔کیونکہ امت مرحومہ کے افراد نے اعمال نیک کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم اور آپ کی اتباع سے حاصل کیا ہے اور نیکی کی راہ دکھانے والا بھی نیکی کرنے والے کی مانند ہے۔پس ہر ایک کے عمل خیر میں آنحضرت کے واسطے اجر ہے۔ہر ایک جوایمان لایا اور جس نے نماز پڑھی اور جس نے روزہ رکھا اور جس نے فرائضِ حج کو ادا کیا اور جس نے توبہ کی اور صبر اور توکل سے کام لیا۔اور جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور جس نے کلام پاک کو پڑھا اور جو خدا کی طرف جھکا۔اور تصدیق کی اور جس نے مجاہدہ کیا یا جہاد کیا اور جس نے تقوی اختیار کیا اور اپنی اور دوسروں کی اصلاح کی اور جس کسی نے نیکی کی اور اپنے رب کو راضی کیا اور رب کی راہ میں کوشش کی اور جہاد کیا اور رباط فی سبیل اللہ کیا اور ان باتوں میں ان کی پیروی کی اور کفر اور شرک سے بچا اور زناء اور قتل نفس سے پر ہیز کیا۔اور والدین کی نافرمانی نہ کی اور جھوٹ کے بولنے اور یتیم کا مال کھانے سے اجتناب کیا اور بے خبر نیک بخت مومن عورتوں پر عیب نہ لگایا۔اور جھوٹ اور عجز اور سستی اور بزدلی اور بخل اور اس قسم کے رذائل سے بچتا رہا۔جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے تو ان سب کے اعمال خیر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے اجر ہے اور عمل کر نیوالوں کے اجر میں کچھ فرق نہیں۔پس یہ ضروری بات ہے کہ ہمارے رسول اور ہمارے حبیب اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر آن اس قدر درجہ بڑھتا ہے کہ آپ کی امت میں سے کوئی آپ کے درجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی تمام امت کے افراد کے اعمال خیر کے برابر درجہ دیا ہے۔اور امت کے درجات اور اعمال خیر کے اجر میں کچھ کمی نہیں واقع ہوتی۔اور یہ اس واسطے ہے کہ ان کی ہدایت اور نجات کا سبب آنحضرت ہی ہوئے۔پس اے مومنو! اگر تم اللہ سے پیار کرتے ہو۔تو اس نبی کی پیروی کرو۔خدا تم سے پیار کرے گا۔اور اس کی اتباع میں اور اس کی پیروی میں کوشش کرو۔اس کے حکموں پر عمل کرو۔اور جن باتوں سے وہ منع کرے۔ان سے اجتناب کرو۔اور اعمالِ صالح کثرت سے بجالا ؤ تاکہ تمہارے اجر کے برابر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی اجر ہو۔اور تم اس بات کے قریب ہو جاؤ کہ آنحضرت صلی اللہ