حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 390 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 390

حقائق الفرقان ۳۹۰ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ۔الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ۔ترجمہ۔وہ جو دکھانے کو کام کرتے ہیں۔تفسیر۔الَّذِینَ۔وہ لوگ جو۔هُمْ يُراوُونَ۔دکھاوا کرتے ہیں۔ریا کاری کرتے ہیں۔وہ لوگ جولوگوں کی خاطر یا لوگوں کے سامنے لمبی نماز پڑھتے ہیں اور جب علیحدہ ہوتے تو پھر نہیں پڑھتے یا کسل کے ساتھ نماز کو ادا کرتے ہیں۔لیکن اصل بات نیت پر موقوف ہے۔اگر کوئی شخص بچے اخلاص کے ساتھ اور صدق کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو خواہ اس کو کوئی دیکھا کرے اس امر کا اس کو کچھ نقصان نہیں پہنچ سکتا۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن نماز پڑھ رہا تھا۔ایک آدمی آیا اور مجھے نماز پڑھتے دیکھا۔اس کا یہ دیکھنا مجھے بھلا معلوم ہوا۔میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ تیرے لئے دہرا اجر ہے۔ایک ستر کا اجر اور ایک علانیہ کا۔غرض یہ باتیں زیادہ تر نیت پر موقوف ہیں۔بعض لوگ اس نیت سے ظاہری طور پر صدقہ خیرات کرتے ہیں کہ دوسروں کو بھی نیک کام کے واسطے ترغیب پیدا ہوتی ہے۔وہ لوگ جو اندر سے ایک نیکی کا کام کرتے ہیں۔اور ظاہر میں اس کو بدی کا رنگ دیتے ہیں تا کہ خلقت کی نظروں میں وہ بد دکھائی دیں۔میرے نزدیک یہ بھی ریا کار ہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنے عمل میں خلقت کی نظر بد یا نیک کی پرواہ کی ہے۔انسان کو چاہیے کہ اپنے خدا تعالیٰ کے واسطے خالصۂ عبادت کرے پھر خواہ خلقت اس کو برا سمجھے یا بھلا اس امر کی پرواہ نہیں چاہیے۔اور اپنے ظاہر کو جان بوجھ کر برا بنانا آنحضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھلائی ہوئی اس دعا سے ناجائز ثابت ہوتا ہے۔وہ دعا آنحضرت نے حضرت عمر کو سکھلائی تھی اور اس طرح ہے۔اللَّهُمَّ اجْعَلْ سَرِيرَت خَيْرًا مِنْ عَلَانِيَّتِي وَاجْعَلْ عَلَانِيَّتِي صَالِحَةً اے اللہ میرے باطن کو میرے ظاہر سے بہتر بنا اور میرے ظاہر کو اچھا کر۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۵۷)