حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 386
حقائق الفرقان ۳۸۶ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ پرورش پارہے ہیں۔جن کے ہر قسم کے اخراجات تعلیمی اور خوراک پوشاک وغیرہ کے انجمن برداشت (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۰ / اکتوبر ۱۹۱۲ ، صفحه ۳۵۶٬۳۵۵) کر رہی ہے۔- وَلَا يَحُضُّ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ - ترجمہ۔اور نہیں رغبت دیتا کہ مسکین کو کھا نا کھلایا جائے۔تفسیر وَلا يَعضُ۔اور نہیں رغبت دلا تا اور نہیں تاکید کرتا۔عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ۔مسکین کے کھانا کھلانے پر۔یہ دوسری مذمت مکذب کی ہے کہ وہ اول تو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔اور دوم مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا اور نہ کسی دوسرے کو اس امر کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مسکین کو کھانا کھلایا کرے۔اس جگہ مکذب کی دو بڑی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ایک یہ ہے کہ یتیم کو دھکے دیتا ہے۔اور دوم یہ کہ مسکین کو کھانا نہیں دیتا۔مسکین اور یتیم ہر دو عام لفظ ہیں۔اور ہر ایک شخص جو مساکین اور یتامی کے ساتھ بدسلوکی کریگا وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو اپنے اوپر وارد کرے گا۔لیکن اس میں ایک بار یک اشارہ ایک خاص یتیم اور مسکین کی طرف بھی ہے۔جس نے اللہ تعالیٰ کی خاطر د نیوی تعلقات کو قطع کر دیا ہے اور دنیوی اموال اور جاہ و حشم کو بالکل ترک کر دیا ہے۔اور وہ خدا کی خاطر ایک یتیم اور مسکین بن گیا ہے تب خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی ہستی کے ثبوت کے واسطے ایک حجت اور نشان مقرر کر کے دوبارہ دنیا میں داخل کر دیا ہے۔خداوند تعالیٰ کے تمام انبیاء کا یہی حال ہوتا ہے۔اور وہ لوگ جو دنیا میں عام طور پر اپنی بے دینی کے باعث یتامی اور مساکین پر ظلم روا ر کھتے ہیں۔وہ اپنی عادت کے مطابق ان آیات اللہ کے ساتھ ٹکر کھا کر اپنی بداعمالیوں کا آخری نتیجہ پالیتے ہیں۔جن لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یتیم اور مسکین بے کس اور بے بس ایک اکیلا انسان سمجھا۔اور آپ کے ساتھیوں کو چند غرباء ضعفاء کے سوائے نہ پایا اور آپ کے قتل کے درپے ہوئے۔خدا تعالیٰ نے ان کے منصوبوں کو ایسا خاک میں ملایا۔اور ان کو ایسی ناکامی کا منہ آنحضرت کے سامنے ہی دکھایا کہ اس کی نظیر تاریخ دنیا کے معرکہ ہائے جنگ و جدال میں نظر نہیں آتی۔ایسا ہی اس زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کا