حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 385 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 385

حقائق الفرقان ۳۸۵ سُوْرَةُ الْمَاعُونِ سے اس جگہ کیا مراد ہے۔یتیم کو جھڑ کنا ، مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہ دینا ، نماز سے لا پرواہی کرنا، ریا کاری کرنا، ماعون سے روکنا۔ایسا آدمی خدا تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہے۔اور وہ دین کو جھٹلانے والا ہے۔کیونکہ ایسا کر نیوالا درستگی اعتقاد یعنی ایمان متعلق جزاء سزاء سے بے بہرہ ہے۔اور تہذیب اخلاق سے بھی عاری ہے۔کیونکہ نہ وہ دفع شر کرتا ہے اور نہ طلب منفعت کرتا ہے اور نہ وہ تزکیہ نفس کی طرف توجہ رکھتا ہے۔کیونکہ نماز سے تساہل کر نیوالا ہے اور ادنی چیزوں سے جو گھر کے اندر عام استعمال میں آتی ہیں۔ایک دوسرے کو برتنے سے منع کرتا ہے۔اور اخلاق کے ادنیٰ مراتب سے بھی گرا ہوا ہے۔ا۔نماز پڑھتا ہی نہیں ۲۔یتیم کو دھکے دیتا ہے ۳ مسکین کو کھانا نہیں دیتا ۴۔ادنی چیزوں کے باہمی استعمال سے مضائقہ کرتا ہے۔شیخ سعدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔بخیل از بود زاهد و بهره ور بهشتی نباشد بحکم خبر (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۰ر اکتوبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۵۵) - فَذَلِكَ الَّذِي يَدُعُ الْيَتِيمَ - ترجمہ۔پس یہی ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو۔تفسیر فذلك۔پس یہی ہے الَّذِي۔وہ جو يد۔دھکے دیتا ہے الْيَتِيمَ۔یتیم کو یتیم کی اہانت کر نیو الے اور اس پر سختی کرنیوالے کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے درمیان شمار فرمایا ہے جو کہ دین کے مکذب ہیں۔یتیم سب ضعیفوں سے زیادہ ضعیف ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یتیم کا بہت خیال رکھتے تھے۔اور یتامی کی بہت خبر گیری کرتے تھے۔ہماری انجمن اشاعت اسلام نے بھی اپنے اخراجات میں ایک مڈیتائی کی رکھی ہے۔اور مدرسہ تعلیم الاسلام میں بہت سے یتیم اگر ایک بخیل انسان بحر و بر کا سب سے زیادہ متقی انسان ہو تب بھی وہ حدیث کے مطابق جنتی نہیں ہوسکتا۔