حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 377
حقائق الفرقان ۳۷۷ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اور انبیاء علہیم السلام کی صداقت کا ایک بین ثبوت ظاہر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے حرم کے متعلق قرآن شریف میں جو پیشگوئی کی ہے کہ اَو لَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا أَمِنَّا وَ يُتَخَطَفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ (العنکبوت :۶۸) یہ پیشگوئی آج تک پوری ہو رہی ہے۔ایک مفسر لکھتے ہیں۔عرب پہلے جاہل کہے جاتے تھے۔اسلام لانے سے وہ دنیا کے عالم کہلائے آمَنَهُمْ بِالْإِسْلَامِ فَقَدْ كَانُوا فِي الْكُفْرِ أَطْعَمُهُمْ مِنْ جُوْعِ الْجَهْلِ بِطَعَامِ الْوَخي۔کافر تھے خدا نے ان کو مسلمان بنادیا۔جہالت میں بھوکے تھے۔خدا نے طعام وحی سے مالا مال کر دیا۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مکہ پر چڑھائی کی تھی اور اس کو فتح کیا تھا۔اور آپ کے بعد بعض دیگر خلفاء کو بھی ایسا کرنا پڑا اور سب کو فتح حاصل ہوئی اور اہلِ مکہ نے شکست کھائی کیونکہ یہ صاحبان بیت اللہ کی تخریب کے واسطے حملہ آور نہیں ہوئے تھے۔مگر اس کی حرمت کو قائم کرنے کے واسطے اور فساد کو مٹانے کے واسطے انہیں ایسا کرنا پڑا تھا۔اس سے ایک نکتہ معرفت حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی خاص جگہ کسی خاص قوم کے ساتھ کوئی ایسا تعلق نہیں کہ وہ جو چاہیں سو کریں۔بہر حال ان کی ہی رعایت ہو گی۔بلکہ خدا تعالیٰ کو اپنی توحید پیاری ہے۔اور وہ متقی اور صالح لوگوں سے پیار کرتا ہے۔خواہ وہ کہیں ہوں۔اہل مکہ عرب والے اور گردو نواح کے لوگ بسبب بیت اللہ کی عزت کے حیران بیت اللہ کہلاتے تھے۔اور اسی سبب سے ان کے نام سکانِ حرم۔خدا تعالیٰ کی حرم میں رہنے والے ولاة الكعبه کعبہ کے والی اور اہل اللہ بھی تھے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۸ تا ۳۵۰) مثنا میں ایران ، شام، مصر، یورپ اور حیف میں افریقہ ، ہندوستان ، چین ، جاوا۔تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۸) ا کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہم نے بنادیا ہے حرم مکہ کو امن کی جگہ اور لوگ اچک لئے جارہے ہیں اس کے آس پاس سے۔