حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 373 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 373

حقائق الفرقان ۳۷۳ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ رہا ہے۔وہ طواف بھی ایک تو یوں ہو گیا کہ بحیرہ قلزم ، بحیرہ عرب ، عدن سے ہو کر خلیج فارس میں دجال گھوم رہا ہے۔اور اس کے آگے جو ہو گا وہ بھی ظاہر ہو جائے گا۔رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْفِ۔چونکہ اہلِ عرب کے واسطے مقدر تھا کہ جب نور محمدی ان کے درمیان سے طلوع کرے۔تو وہ اس سے منور ہو کر مشرق و مغرب میں پھیلیں۔قیصر و کسرای کی سلطنتوں کے وارث بنیں۔ایران اور شام کو فتح کریں۔مصر، الجیریا، مرا کوکو مسلمان بناتے ہوئے ہسپانیہ میں جا گھیں۔دوسری طرف ترکستان، افغانستان، ہند کے فاتح بنیں۔چین کے لوگوں کو جا کر مسلمان بنائیں۔اس واسطے پہلے سے اللہ تعالیٰ نے ان کے طبائع ایسے بنائے تھے کہ وہ سفر کو پسند کرتے تھے اور کیا گرمی اور کیا سر دی۔ہر دو موسموں میں سفر کیا کرتے تھے۔پھر اس میں ایک پیشگوئی بھی مخفی ہے کہ اے قریش خدا تعالیٰ نے تمہارے واسطے بڑے بڑے سفر مقدر رکھے ہیں۔وہ سفر ایسے نہ ہوں گے کہ تم جس موسم میں جاؤ۔اسی میں تم واپس آسکو۔بلکہ وہ لمبے سفر ہوں گے۔جن میں تم کو سردیاں بھی گزارنی پڑیں گی اور گرمیاں بھی گزارنی ہونگی۔خدا تعالیٰ کی قدرت اور طاقت کیا وسیع ہے کہ اس نے عرب کی قوم ہاں اس پتھر کو جسے معماروں نے رد کر دیا تھا کہ یہ کام کا نہیں اسے ہی کونے پر لگایا۔وہی قوم تمام دنیا کی سردار بنتی ہے۔وہی قوم تمام یورپ کو مہذب بنانے والی ہوئی۔مشرق و مغرب میں اس نے علوم کا چراغ روشن کر دیا۔آج تک تمام اعلیٰ علوم انہیں کی کتابوں سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ایک ایک مسلمان نے وہ شاندار کتاب لکھی ہے جس کے برابر آج بڑی بڑی جماعتیں لگ کر اور لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کر کے بھی نہیں لکھ سکتیں۔کیسا طاقتور، قادر، توانا ، آئندہ کی خبروں سے واقف خدا اس گھر کا ہے جو تیرہ سو سال سے اس قدر عزت پارہا ہے۔وہ جسے ابراہیم علیہ السلام والبرکات نے جنگل میں بنایا۔جنگل بھی وہ جس کے گردا گر دسینکڑوں کوسوں تک کوئی آبادی نہ تھی۔اس گھر میں خدا کی عبادت کے واسطے اپنی بیوی اور بچے کو تنہا چھوڑ دیا۔اللہ اللہ کیا ہی وہ ایمان تھا جو حضرت ابراہیمؑ کے سینہ اور در ددل میں تھا۔کیا ہی تو کل اور ایمان والی وہ بیوی تھی جس نے اپنے خاوند کو کہا کہ جب یہ خدا کا حکم ہے تو اب تو جا۔تیری اور نہ کسی اور کی ہم کو پرواہ ہے۔کیا ہی پیارا وہ بچہ تھا۔جس کی خاطر جنگل بیابان میں چشمہ جاری ہوا۔اور ایسا