حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 372 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 372

حقائق الفرقان ۳۷۲ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ ظہر۔ان کے علاوہ تہجد اور اشراق اور دوسری نمازیں جدا ہیں۔غرض کوئی بھی ایسا وقت نہیں ہوتا جس میں روئے زمین پر کسی نہ کسی جگہ مسلمان خدا کی عبادت نہ کر رہے ہوں۔گویا مسلمان ہی ایک قوم ہے جس پر خدا تعالیٰ کی عبادت کے انوار کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ایسا ہی عبادت کے وقت ایک خاص سمت کا مقرر کرنا ایک عجیب حکمت رکھتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کے سبب اہل ہند کا منہ عبادت کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے۔اہلِ شام کا جنوب کی طرف اور اہل یمن کا شمال کی طرف۔اہل مصر کا مشرق کی طرف ہوتا ہے۔اور ان سمتوں کے درمیان جو مقام ہے ان کا منہ کم و بیش درجات کے ساتھ ان سمتوں کے درمیان میں ہوتا ہے۔الغرض کمپاس کا کوئی ایسا طرف نہیں جس طرف منہ کر کے مسلمان خدا کی عبادت نہیں کرتے۔گویا تمام روئے زمین پر اسلامی توحید کی شہادت کی لکیریں اس کثرت کے ساتھ ہر سمت سے گزرتی ہیں اور ہر وقت گزرتی ہیں کہ تمام روئے زمین ہر وقت مسلمانوں کی طرف سے خدا تعالیٰ کی توحید اور تحمید اور تسبیح سے پر رہتی ہے۔کوئی اور مذہب دنیا میں ہے۔جو اس قدر خدا کی عبادت کرنے والا۔خدا کے کام بھی عجیب ہیں۔کسی کو اپنا برگزیدہ بندہ بنانا چاہتا ہے۔تو ایک غریب کو لیتا ہے۔جو غیر مشہور ہو اور ظاہری علوم سے دنیا کی نظر میں ناواقف ہو اور کچھ طاقت نہ رکھتا ہو۔نہ کوئی جتھا اس کے ساتھ ہو پھر اسے مامور بنادیتا ہے۔چار دانگ عالم میں اس کی قبولیت پھیلا دیتا ہے۔تمام عالموں سے بڑھ کر اسے عالم بنا دیتا ہے۔اسے طاقتور بنادیتا ہے اور اس کو ایک بڑی قوم کا امام بنا دیتا ہے۔ایسا ہی اس نے جب ایک گھر کو اپنی طاقتور ہستی کے ثبوت میں نشان بنانا چاہا۔تو کہاں بنایا۔عرب کے میدان میں۔جہاں پانی نہ ملے نہ چارہ ، نہ خوراک نہ سبزی نہ کوئی بستی نہ کوئی آبادی نہ کوئی حفاظت کی جگہ۔پھر اسے آباد کیا تو ایسا کہ ساری دنیا اس کی طرف دوڑی چلی جاتی ہے۔تمام جہان کی دولت وہاں پہنچتی ہے۔ہر ملک وملت کا آدمی وہاں پایا جاتا ہے۔ہر زبان وہاں سمجھی جاتی ہے۔طاقت کا یہ حال ہے کہ فوجی لحاظ سے کوئی حفاظت کا سامان نہیں۔پھر بھی سکندر رومی یونان سے نکلا۔ہند تک فتح کیا۔واپسی پر عرب کی فتح کا ارادہ تھا۔راستہ میں ہی ہلاک ہو گیا۔خود اس زمانہ میں دجال یورپ سے نکلا اور ہند تک پہنچ گیا۔مگر وہی بیت اللہ اس سے محفوظ رہا۔نبی کریم نے دجال کو دیکھا تھا کہ خانہ کعبہ کا طواف کر