حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 371 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 371

حقائق الفرقان سُوْرَةُ قُرَيْشٍ تو ان کی یہ تمام عزت جاتی رہتی۔اور امن اُٹھ جاتا۔لیکن اصحاب الفیل کو تباہ کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت کو اور بھی بڑھایا۔اور پہلے سے بھی زیادہ لوگ قریش کی تعظیم کرنے لگے۔اور وہ سفران کے واسطے اور بھی زیادہ آسان اور بابرکت ہو گئے۔فَلْيَعْبُدُوا۔پس چاہیے کہ عبادت کریں۔رَبَّ هذا الْبَيْتِ۔اس گھر کے پروردگار کی۔الذى - جس نے۔أَطْعَمَهُم - ان کو کھانا کھلایا۔من جوع۔بھوک سے۔وا مَنَهُمْ۔اور ان کو امن دیا۔مِنْ خَوْفٍ۔خوف سے۔بعض جاہل آریہ اور عیسائی اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مسلمان چونکہ عبادت کے وقت خانہ کعبہ کی طرف منہ کرتے ہیں اس واسطے یہ بھی ایک شرک ہے۔اور اس گھر کی عبادت کی جاتی ہے۔اس سورہ شریف میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا رد کر دیا ہے۔فلیعْبُدُوا رَبَّ هَذَا الْبَيْتِ - عبادت اس گھر کے رب کی کی جاتی ہے نہ کہ اس گھر کی۔اور یہ گھر بطور ایک نشان کے ہے۔جو خدا تعالیٰ کی برتر اور قادر اور عالم الغیب ہستی کا ثبوت دیتا ہے۔کیونکہ دنیا میں بڑے بڑے گھر لوگوں نے بنائے۔اور بڑی بڑی قومیں ان کی امداد میں کھڑی ہوئیں لیکن وہ تباہ ہو گئے۔اور ان کا نام ونشان مٹ گیا۔اور یہ گھر خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق قائم ہے۔اور اس کے ارد گر در ہنے والے ہر طرح کے خطرات سے محفوظ ہیں۔عبادت کے وقت آخر کسی نہ کسی طرف تو انسان منہ کرتا ہے۔وحدت کے واسطے سب نے ایک طرف منہ کیا اور ایک ایسی طرف منہ کیا جس طرف سے خدا تعالیٰ کا پاک کلام اُن تک پہنچا۔اور اُن کے واسطے موجب ہدایت ہوا علاوہ اس کے اس میں ایک اور حکمت ہے اور وہ یہ ہے کہ جیسا کہ زمین کے گول ہونے کے سبب دن رات کے ہر ایک حصہ میں مسلمان خدا تعالیٰ کی عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔کیونکہ ایک ہی سیکنڈ میں کہیں عصر ہے کہیں مغرب کہیں عشاء کہیں فجر اور کہیں