حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 366
حقائق الفرقان ۳۶۶ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ طرف متوجہ کرتا ہے سورۃ الفیل اور سورۃ القریش کا ربط باہم ایسا ہے کہ ابی بن کعب اور ایسا ہی بعض دیگر بزرگ بھی ان دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ نہیں لکھتے تھے گویا یہ دونوں ملا کر ایک ہی سورۃ ہے۔دو جدا سورتیں نہیں ہیں۔سورہ ما بعد یعنی سورۃ الماعون کے ساتھ اس کا یہ ربط ہے کہ جب اس سورہ شریف میں اللہ تعالیٰ نے قریش کو اپنے انعام یاد دلا کر اپنی عبادت کی طرف متوجہ کیا ہے تو سورۃ الماعون میں ان رذایل سے بچنے کی طرف توجہ دلائی ہے جن سے خدا تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔تشریح و معانی الفاظ قریش۔قریش کا لفظ قرش سے نکلا ہے۔قرش ایک سمندر کے جانور کا نام ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ دوسرے جانوروں کو کھا جاتا ہے مگر اُسے کوئی نہیں کھا تا یعنی بہت طاقتور جانور ہے سب پر غالب رہتا ہے اسی سبب سے اس قوم کا نام قریش رکھا گیا تھا۔عرب کا ایک شعر ہے۔وَقُرَيْضٌ هِيَ الَّتِي تَسْكُنُ الْبَحْرَ بِهَا سُمِّيَتْ قُرَيْضٌ قُرَيْشًا ترجمہ۔قریش وہ ہے جو سمندر میں رہتا ہے۔اسی کے سبب سے قوم قریش کا یہ نام رکھا گیا ہے۔قرش کے معنی کسب کے بھی ہیں چونکہ قریش اپنی تجارت میں کسب اور محنت کے ساتھ اپنی روٹی کماتے تھے اس واسطے بھی ان کا یہ نام ہوا۔لیٹ کا قول ہے کہ تقرش جمع ہونے کو کہتے ہیں پہلے یہ قوم مختلف مقامات پر پراگندہ پھرتی تھی۔پھر قصی بن کلاب نے ان سب کو حرم میں جمع کیا اور ایک جگہ اکٹھے ہو کر رہنے لگے اس واسطے ان کا نام قریش رکھا گیا چنانچہ اس پر ایک شاعر نے کہا ہے۔أَبُو كُمْ قُصَى كَانَ يُدعَى مُجَمَّعًا بِهِ جَمَعَ اللَّهُ الْقَبَائِلَ مِنْ فَهْرٍ تمہارے باپ قصی کا نام ہی ہو گیا تھا کہ وہ جمع کرنے والا ہے کیونکہ اس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے فہر کے قبائل کو ایک جگہ جمع کر دیا تھا۔