حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 367
حقائق الفرقان ۳۶۷ سُوْرَةُ قُرَيْشٍ قبیلہ قریش۔قریش۔فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ کا دوسرا نام تھا۔قبیلہ قریش حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم علیہما السلام والبرکات کی اولاد میں سے تھا اور اسی قبیلہ کو یہ فخر حاصل ہوا کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے پیدا ہوئے جنہوں نے تمام جہان کو اپنے نور سے منور کیا اور بنی آدم کے واسطے روحانی کمالات کے دروازے کھول دیئے اور تمام دنیا کی متفرق قوموں کو اور ان کے متفرق قومی مذاہب کو ایک ہی قوم اور ایک ہی مذہب میں جمع کر کے ایک ایسی توحید قائم کی کہ چار دانگ عالم میں لا الہ الا اللہ کا نعرہ گونج اٹھا۔یہ تو حید اس قلبی تعلق کا نتیجہ تھی۔جو آنحضرت صلعم کو اپنے رب اور خالق اور مالک کے ساتھ تھا۔اگر محمد دنیا میں نہ ہوتا تو انسانی روح کس تنزل کے گڑھے میں اب تک گری ہوئی ہوتی۔اسی واسطے وہ فخر عالم و عالمیان ہے اور اگر روحوں کا خدا کے ساتھ تعلق اپنی ترقی کے انتہائی نقطہ میں اس کمال تک پہنچنے والا نہ ہوتا جو اس پیارے نبی نے پہنچایا تو پھر دنیا کی حالت رذالت اس قابل ہی نہ تھی کہ خدا تعالیٰ اسے خلق کرتا اسی واسطے لَوْ لَاكَ لَهَا خَلَقْتُ الْأَفَلَاكَ کا خطاب آپ کو عطا ہوا۔نسب نامہ۔اب میں قریش کا نسب نامہ حضرت ابراہیم علیہ السلام والبرکات سے لے کر حضرت خاتم النبین تک اس جگہ درج کرتا ہوں۔اس جگہ اس بات کا ذکر فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انساب عدنان تک بیان کئے ہیں اور اس سے اوپر بیان نہیں فرمائے۔جس سے بعض لوگوں کو ( جن میں سرسید احمد خان صاحب بھی شامل ہیں ) یہ غلطی لگی ہے کہ آنحضرت کو اُس کے او پر انساب کا نام نہ آتا تھا۔یہ اس سے اوپر کا سلسلہ قابل اعتبار نہیں ہے۔یہ بات صحیح نہیں اور اصل بات یہ ہے کہ یہود چونکہ اہلِ کتاب تھے اور لکھنے پڑھنے کا رواج ان میں عام تھا۔وہ جہاں حضرت الحق کا نسب نامہ محفوظ رکھتے تھے وہاں حضرت اسمعیل کا بھی یہ سبب قرب رشتہ داری کے محفوظ رکھا کرتے تھے۔لیکن کچھ زمانے کے بعد جبکہ قوموں کی جدائی اور اختلاف بڑھ گیا تو یہودی علماء نے عدنان سے نیچے کا نسب نامہ لکھنا اور اس کی حفاظت کرنا چھوڑ دیا تھا۔اس واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عدنان تک خود بیان کر دیا اور اس کے اوپر جو یہود کے پاس تھا وہ بہر حال محفوظ تھا۔اس واسطے اس لے اگر تجھ کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں کا ئنات کو پیدا نہ کرتا۔