حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 357 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 357

حقائق الفرقان ۳۵۷ سُوْرَةُ الْفِيْل تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ - شکاری جانوروں کی عادت ہے کہ وہ گوشت کو پتھر پر مار کر کھاتے ہیں۔فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّاكُولٍ - تشحیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۸۸) ترجمہ۔تو ان کو ایسا کر ڈالا جیسے چبایا ہوا بھوسا۔تفسیر - عضف ماکول کے معنے خوید پس خوردہ کے ہیں۔چڑیاں ان کی لاشوں کو نوچ کر لے عَصْفِ جاتیں اور پہاڑوں میں کھاتیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۳) دھرم پال آریہ کے اعتراض طيرا ابابیل کجا ہاتھی اور کجا کرم خور جانور کے جواب میں تحریر فرمایا: قبل اس کے کہ ہم آپ کو اس سوال کا جواب دیں۔ضروری سمجھتے ہیں کہ آپ کے سوال میں جو الفاظ آئے ہیں۔ان کے معانی بتلائیں۔پہلا لفظ گید۔ہے۔یہاں یادر ہے کہ گیند کے معنے لڑائی کے ہیں۔دوسرا لفظ تضلیل ہے تضلیل کے معنے باطل کرنے اور اہلاک کے ہیں۔تیسر الفظ ابابیل ہے۔ابابیل جمع ہے ابیل اور ابول کی۔ابیل اور ابول کے معنے جماعت کے ہیں۔ابابیل کے معنے ہوئے بہت سی جماعتیں۔ہماری زبان میں ترجمہ ہوا۔ڈاروں کی ڈار۔چنانچہ لسان العرب میں لکھا ہے۔قال النُّ جَاجُ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى طَيْرًا اَبَابِيْلَ جَمَاعَاتٌ مِنْ هُهُنَا وَ جَمَاعَاتٌ مِنْ لے هُهُنَا وَقِيْلَ يَتَّبِعُ بَعْضُهَا بَعْضًا إِبْيْلًا إِبْيْلًا أَى قَطِيعًا خَلْفَ قَطِيعِ۔دوسرا سوال اس کے بعد یہ پیش آتا ہے کہ دشمن کی فوج کی ہلاکت کو جانوروں سے کیا تعلق ہے۔سواس کے واسطے سام و ید فصل نمبر ۳ پر پاٹیک نمبرا کی عبارت دیکھو۔اس میں لکھا ہے۔ا۔کوؤں اور مضبوط بازو والوں پرندوں کو ان کے تعاقب میں بھیج۔ہاں تو اس فوج کو کرگسوں کی غذا بنا۔اے اندر! ایسا کر کہ کوئی ان میں سے نہ بچے۔کوئی نیک کے بھی نہ بچے۔ان کے پیچھے تو تعاقب کر نیوالے پرندوں کو جمع کر دے“ 1 زجاج اللہ تعالیٰ کے قول طیرا ابابیل کی تشریح میں کہتے ہیں۔کچھ گروہ یہاں سے کچھ گروہ وہاں سے۔اور کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے چلتے تھے۔ابیلا بیلا یعنی ایک گروہ دوسرے گروہ کے پیچھے۔لطیفہ نیکوں کے لئے بھی بد دعا ہے۔