حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 354 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 354

حقائق الفرقان ۳۵۴ سُوْرَةُ الْفِيْل سُوْرَةُ الْفِيلِ مَكِيَةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ہم سورہ فیل کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اللہ رحمن و رحیم کے نام کی مدد سے۔- أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحُبِ الْفِيلِ ترجمہ۔تجھے نہیں معلوم کیا برتاؤ کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ ( تو کیا تیری طرف سے کچھ ان دشمنوں کو نہ ہٹائے گا ایسا تو ہوگا نہیں )۔تفسیر۔الم تر کے معنی الم تعلم کے ہیں۔کیونکہ اصحب فیل کا واقعہ متواتر بیان سے ایسا معتبر و مشہور تھا کہ رؤیت اور علم کا حکم رکھتا تھا۔جس سال اصحاب فیل تباہ ہوئے۔اسی سال پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔آپ کی ولادت ۱/۲۰ پریل ۵۷۱ء کو ہوئی۔آپ کی ولادت باسعادت کے لئے اصحاب الفیل کا واقعہ بطور توطیہ وتمہید کے تھا۔كَيْفَ فَعَلَ رتك فرما کر ربوبیت کے لفظ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تسلی فرمائی کہ آپ کی پیدائش سے پہلے ہی جبکہ آپ کے رب نے آپ کی خاطر اس قسم کی صیانت کی ہے کہ ایک بادشاہ کے زبر دست لشکر کو ہلاک کر دیا۔تو کیا وہ ربوبیت جبکہ آپ پیدا ہو چکے ہیں تو آپ سے اب الگ ہوسکتی ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۳) عباسیوں کی سلطنت تھی۔ایک دفعہ محمود غزنوی سے ان کی کچھ رنجش ہوگئی۔محمود غزنوی نے اس خلیفہ کولکھا کہ میں ہندوستان کا فاتح ہوں اور میرے پاس اتنے ہاتھی ہیں۔خلیفہ نے اس کے جواب میں الم الم نہایت خوبصورت لکھوا کر بھیج دیا۔محمود کے دربار میں تو سب فارسی دان ہی تھے۔چنانچہ اس زمانہ کی یادگار صرف ”شاہ نامہ ہی باقی ہے۔وہ تو کچھ سمجھے نہیں۔آخر محمود نے کہا کہ خلیفہ نے اکھ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِاصْحُبِ الفِيلِ یاد دلائی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے پاس ہاتھی