حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 353
حقائق الفرقان ۳۵۳ سُوْرَةُ الْهُمَزَة لَجَعَلْنَهُ حُطاما (الواقعه : ۲۲ ) همز اور لمز کی جزا میں بھی سزا بالمثل کے طور پر اللہ تعالیٰ نے نار جہنم کے طبقہ کا نام محطمة بیان فرمایا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۳) ۸ تا ۱۰ - الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْإِنْدَةِ - إِنَّهَا عَلَيْهِمْ مُّؤْصَدَةٌ فِي عَمَدٍ مُمَدَّدَةٍ - ترجمہ۔جو دلوں پر بھڑکتی ہے۔بے شک وہ ان پر بند کی جائے گی۔لمبے لمبے ستون کے گھروں میں ( یاستونوں کی شکل میں )۔تفسیر۔جو شخص مال کے جمع کرنے کی فکروں میں چور رہتا ہے۔اس کے دل پر ذرا ذرا سے نقصان کے وقت آگ کی لپٹ کی طرح صدمات شعلہ زن ہوتے رہتے ہیں۔اسی دنیا میں ایسا شخص زندہ در آتش ہوتا ہے۔اس دل کی کیفیت کے اعتبار سے آگ کی لپٹ کی نسبت دل کی طرف کی۔آیت نمبر ۹ میں مُؤصَدَةً کے لفظ میں یہ ارشاد فرمایا کہ دنیا کی راحتوں اور آرام کے دروازے بھی باوجود مال و دولت کے ہونے کے ان لوگوں پر بند ہوتے ہیں۔فِي عَمَلٍ مُسَدَّدَةٍ لمبی لمبی امیدوں میں مبتلا ہو کر اس عذاب کا مزہ دنیا میں بھی چکھتے رہتے ہیں۔اور یہی عذاب آگ کا دنیا سے وہ آخرت میں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔اس سورہ شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں اور نکتہ چینوں کو جو مکہ میں تھے آگاہ کیا ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ تمہارے یہ مال و منال جو تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کے لئے جمع کئے ہوئے ہیں اور تم سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے پاس ہمیشہ رہیں گے اور تم کامیاب ہو جاؤ گے۔کام نہ آئیں گے اور تم ہلاک ہو کر خطرناک عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے۔اور عام طور پر دوسروں کی حقارت۔نکتہ چینی اور عیب بینی سے منع کیا کہ بالآخر یہ خصال بد انسان کو ہلاکت کے کنویں میں گرا دیتی ہیں۔مخالفین مکہ آخر اس پیشگوئی کے موافق مبتلائے عذاب ہوئے اور ان کے اموال کام نہ آئے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۴۳) لے اگر ہم چاہیں تو کر ڈالیں اس کو چورا چور۔