حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 351 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 351

حقائق الفرقان ۳۵۱ سُورَةُ الْعَصْرِ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔اس کو دستور العمل بنادے۔افسوس ہے کہ مسلمان اس کو کتاب اللہ جان کر بھی دستور العمل بنانے میں مضائقہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں السُّنَّةُ قَاضِيَةٌ عَلَى کتاب اللہ کا فتوی دیتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قرآن کو کس ادب اور عظمت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ساری حدیث کی کتابیں دیکھو۔جن مسائل پر قرآن کریم نے مفصل بحث فرمائی ہے مثلاً ہستی باری تعالیٰ ، ضرورت نبوت ، مسئلہ تقدیر وغیرہ ، ان پر احادیث میں بحث نہیں کی گئی اور نہ ان کے دلائل دیئے۔پھر تقدیر کے مسئلہ پر ایمان لاوے کہ یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ فاسق کو عمدہ نتیجہ ملے۔پھر جزا وسزا پر ایمان لاوے۔اس کے بعد دوسری بات عَمِلُوا الصّلِحت ہے۔اس کا عام اصول ہے کہ ہر سنوار کا کام کرے اور اس کے معلوم کرنے کے واسطے قرآن کریم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عملدرآمد معیار ہے۔پھر انسان سوچ لے کہ امت محمدیہ کو كُنتُمْ خَيْرَ امة " (ال عمران ) قرار دیا ہے۔پس جس سے آٹھ پہر میں کوئی بھلائی بھی نہ ہو وہ اپنی حالت پر غور کرے۔ایسی ہی وصیت الحق ضروری ہے۔گونگا شیطان بننا اچھا نہیں۔مقابلہ میں مشکلات پیش آتی ہیں۔پھر کوشش کرے اور صبر و استقلال سے کام لے۔یہ ہیں چار دستور العمل جو اس مختصرسی سورت میں بیان ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو توفیق دے کہ قرآن ہمارا دستور العمل ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم مطاع ہو اور وہ یہ زمانہ جو امن اور ایمان کے لئے ہے اس کی قدر کریں۔آمین۔الحکم جلد ۴ نمبر ۲۹ مورخه ۱۶ اگست ۱۹۰۰ ء صفحه ۴ تا ۷ ) ل سنت کتاب اللہ پر قاضی ہے۔تم نیک ترین امت ہو۔