حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 350 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 350

حقائق الفرقان ۳۵۰ سُورَةُ الْعَصْرِ ایمان کی پہلی شرط ہے ایمان باللہ کہ کسی حمد، فعل، عبادت،حسن و احسان الہی میں کسی غیر کو شریک نہ کرے۔مجھے ان لوگوں پر تعجب آیا کرتا ہے جو اپنی محرومیت کے باعث خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہونے سے محروم ہیں۔کہا کرتے ہیں کہ الہام حجت نہیں ہے وہ اطِیعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ (التغابن : ۱۳) کے کیا معنے کرتے ہیں۔قرآن کریم تو ہمیں اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے ذریعہ پہنچا ہے۔اطیعوا اللہ کا موقع ہی کب ملتا ہے۔رسول کے ذریعہ مانا اس کے بھی بعد ہے۔خدا تعالیٰ کی قدر کرو ایسا نہ ہو کہ مَا قَدَرُوا اللهَ (الانعام: ۹۲) کے نیچے آجاؤ۔پس جبکہ اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہا پھر کیا وجہ ہے کہ وہ آج چپ ہو گیا ؟ مجھے اس آیت پر کہ موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جب قوم نے بچھڑہ کو خدا بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دلیل دی ہے کہ اَلا يَرْجِعُ اِلَيْهِمُ قولا (طه:۹۰) یعنی تم دیکھتے ہو کہ تمہاری بات کا جواب نہیں دیتا یہ تفہیم ہوئی کہ جو خدا جواب نہ دے وہ بچھڑہ کا سا خدا ہوا۔ہاں یہ بھی سچ ہے کہ سارے جگ سے بات کر نا کبھی نہیں ہوا۔انسان اپنے اندروہ خوبیاں اور خواص پیدا کرے جو کلام الہی کے لئے ضروری ہیں پھر جواب ملے گا۔دوسری شرط ایمان کی اخلاص ہے یعنی خدا ہی کے لئے ہو۔اور تیسری شرط صواب ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے موافق عملدرآمد ہو۔کوئی عمل قبولیت کا درجہ حاصل نہیں کرتا جب تک اخلاص اور صواب سے نہ ہو۔پھر ایمان بالملائکہ ہے۔ایمان بالملائکہ ایسی چیز ہے جس کی طرف سے تساہل کر کے لوگ نیکی سے محروم رہ جاتے ہیں۔آج کل کے لوگ سمجھتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ بدوں سبب کے فعل سرزد نہیں ہوتا۔پس بیٹھے بیٹھے جو انسان کو دفعتا نیکی کا خیال آتا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟ ایک لمتہ الملک انسان کے ساتھ ہے۔اس کے ذریعہ نیک خیال پیدا ہوتے ہیں اور شیطانی تعلقات سے برے خیالات اٹھتے ہیں پس انسان کو لازم ہے کہ ہر نیکی کی تحریک پر فی الفور نیکی کرے۔ایسانہ ہو يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ (الانفال: ۲۵) کا مصداق ہو جاوے۔ایمان بالملائکہ کا یہی فائدہ ہے کہ نیکی سے تغافل نہ کرے۔پھر اللہ کی کتابوں، اس کے رسولوں پر ایمان لاوے۔لے اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو۔سے اللہ آڑے آ جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے۔