حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 343
حقائق الفرقان ۳۴۳ سُوْرَةُ الْعَصْرِ غرض اس سورۃ وَالْعَصْرِ میں تلافی کے چار قاعدے بتائے جن پر عمل کرنے سے انسان خسارہ سے محفوظ رہ سکتا ہے۔اول۔ایمان ہو۔سچی باتوں کا علم ہو۔عقائد صحیحہ ہوں۔دوم۔اس علم اور عقائد کے موافق اعمال صالحہ ہوں۔سوم۔وہ سچی باتیں اور عقائد صحیحہ ، پاک تعلیمات جن پر ایمان لاتا ہے اور عمل کرتا ہے۔دوسروں کو پہنچائے اس کا نام وصیت الحق ہے۔چہارم۔چونکہ سچائی کے پھیلانے میں دشمن ضرور ہوں گے اس لئے اس کی مخالفت میں صبر و استقلال سے کام لے۔یہ چار قاعدے ہیں جو شخص ان پر عمل کرے گا وہ خسارہ سے محفوظ رہے گا۔اس نسخہ کو صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ا کا بر اولیا و آئمہ نے استعمال کیا۔اس زمانہ میں ہماری سرکار مرزا صاحب نے تجربہ کیا لیکن جب مسلمانوں نے اس نسخہ کو چھوڑنا شروع کیا اسی وقت سے ان پر زوال آنے لگا۔سب سے پہلے مسلمانوں نے ایسی جامع کتاب کا پڑھنا چھوڑ دیا۔ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہاں ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں میں سے کتنے ہیں جو اس کو پڑھتے ہوں اور پھر اس کے مطلب کی تہ کو پہنچ کر عمل کرتے ہوں پھر اس کے حقائق پہنچاتے ہوں اور ان حقائق کے پہنچانے میں جو تکلیفات پیش آئیں صبر و استقلال سے اس کا مقابلہ کرتے ہوں؟ چار قومیں ہمارے سامنے ہیں۔ایک زمیندار ہیں جو صبح سے شام تک گویا موجودہ حالت: مزدوری پیشہ ہیں۔ان کو کون سا وقت ملتا ہے کہ وہ قرآن مجید کو پڑھیں اور سمجھیں۔پھر امراء ہیں انہوں نے اول تو نماز چھوڑ دی ہے اگر پڑھیں بھی تو انہیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مشکل ہو رہا ہے۔گھر میں موقع مل گیا تو پڑھ لی نہیں تو نہیں۔ہاں ایسا دیکھا ہے کہ اگر کوئی افسر مال ہو اور وہ نماز پڑھنے لگے تو کم از کم ذیلدار پڑھ لیتا ہے وضو ہو یا نہ ہو۔پھر علماء اور گدی نشینوں کے قبضہ قدرت میں بڑی مخلوق ہے۔ان کا جو حال ہے اس کو دنیا خوب جانتی ہے۔ایک چیز ان کے بغل میں ہے کفر کا فتویٰ یا عورتوں کے حلالے کرنا۔اسی سے ان کا کام خوب چلتا ہے۔رہی عزت وہ جو کچھ بھی ہے لوگ خوب جانتے ہیں۔رہے گدی نشین۔میں خدا کے فضل سے دونوں میں داخل ہوں۔