حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 342 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 342

حقائق الفرقان ۳۴۲ سُوْرَةُ الْعَصْرِ کو عصر سے تشبیہ دی ہے کیونکہ پہلے تو ایک نبی آتا تھا اور شریعت لاتا تھا اور نئی راہیں خدا کی رضامندی کی ظاہر ہوتی تھیں مگر اب تو عصر کا وقت ہے پھر سورج غروب ہوگا۔آپ جامع کمالات نبوت ، جامع کمالات انسانیت اور خاتم کمالات نبوت اور خاتم کمالات انسانیہ تھے پھر عصر کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ نچوڑنے سے مصفی چیز الگ ہو جاتی ہے اور اس کا ردی حصہ تہ نشین ہوجاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لائے وہ خالص اور تمام صداقتوں کا نچوڑ ہے۔دنیا میں کثرت سے انبیاء آئے ہیں۔مِنْهُمْ مَنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ نَقْصُصُ عَلَيْكَ - (المؤمن : ۷۹ )۔پھر جو آئے ہیں تو کچھ معلوم نہیں کہ ان کی کتابیں محفوظ ہیں یا نہیں۔پھر وہ کتا بیں کمی لے بیشی تغیر و تبدل سے پاک ہیں یا نہیں ؟ غرض بیسیوں شبہات وارد ہوتے ہیں۔پھر انسانی تاریخ کا پتا نہیں۔عیسائی تو پانچ چھ ہزار برس سے پرے کچھ کرنے نہیں دیتے۔حد سات ہزار برس بتاتے ہیں۔آریوں نے ۴ ارب کے اندر خدا کی بادشاہی کو محدود کیا ہے۔زرتشت کے اتباع نے مہاں سنکھ کے آگے سترہ صفر بڑھا دیئے ہیں۔مگر ہمارے مولا کے خالق ، مالک،حی، قیوم اور رازق ہونے کے لئے کسی وقت کی حد بست کرنا سخت جہالت ہے۔اس لئے ہماری مقدس کتاب قرآن کریم نے کوئی تاریخ نہیں دی۔پھر نچوڑنے کے معنوں کو مد نظر رکھ کر فرمایا۔فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ ( البيئة: ۴) تمام صداقتوں کا مضمون قرآن مجید میں موجود ہے۔کوئی صداقت اس پاک کتاب سے باہر نہیں۔ہم نے مختلف رنگوں میں دنیا کے سامنے اس سوال کو پیش کیا ہے کہ تم کوئی صداقت بتاؤ جو قرآن کریم میں نہ ہو۔اولاد، بیوی ، والدین، اپنی قوم اور دوسری قوموں سے تعلقات اور خدا کے ساتھ تعلقات کی کوئی جامع کتاب بتاؤ۔میری عمر بہت ہو گئی ہے اور مذاہب کی تحقیقات کا اتنا شوق رہا ہے کہ میں نے اپنے ہم جولیوں میں نہیں دیکھا۔پھر مدد الہی ایسی پہنچی کہ دوسرے مذاہب کی کتابوں کے خریدنے کے لئے اموال کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسا فضل کیا کہ وہ مجھے ایسے مخفی طور سے دیتا ہے کہ انسان کی طاقت نہیں کہ معلوم کر سکے۔ان تمام اسباب سے میں نے اس صداقت کو ہمیشہ لانظیر پایا۔فِيهَا كُتُبُ قَيِّمَةٌ - لے اُن میں سے بعض تو ایسے ہیں جن کے حالات ہم نے تجھ کو بیان کئے اور سنا دیئے اور بعض ایسے ہیں جن کے حالات تجھ کو نہیں سنائے۔