حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 341 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 341

حقائق الفرقان ۳۴۱ سُوْرَةُ الْعَصْرِ کی۔اس نے دو مرتبہ کہا کہ عورت اور مرد باہم برا بر ہیں۔تب میں نے اس کو مخاطب کیا اور پوچھا۔آپ کا کوئی بیٹا ہے؟ پہلے تو اس نے مکروہ سمجھا کہ میں نے بدوں انٹروڈیوس اس سے خطاب کیا مگر جب اس نے دیکھا کہ صاحب مکان میری تکریم کرتا ہے تو اس نے جواب دینا پسند کیا اور بڑی خوشی سے کہا کہ ہاں! میں نے نہایت بے تکلفی سے اس کی چھاتی پر ہاتھ مار کر ٹولا اور کہا کہ اب تو آپ کی باری بچہ جننے کی ہوگی۔میری اس حرکت سے اس نے سمجھ لیا کہ یہ بڑی جرأت والا آدمی ہے اس لئے اس نے گھر والے سے پوچھا کہ یہ کون ہے۔اس نے کہا کہ یہ آپ ہی کہہ دیں گے میری تو جرات نہیں کہ بتاؤں۔پھر اس کو پتا لگ گیا۔میرے اس عملی اعتراض پر وہ بہت گھبرایا اور آخر اسے ماننا پڑا کہ عورت اور مرد با ہم مساوی نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مرد اور عورت کے خواص الگ ہیں اور ان کے فرائض جدا جدا۔اگر ان امور پر تم نظر کرو گے تو تمہیں صاف معلوم ہو جائے گا إِنَّ سَعیکم کشتی۔جب کام جدا جدا ہیں تو ان کے نتیجے بھی الگ الگ ہوں گے۔اسی طرح پر نیکی اور بدی میں تفاوت ہے۔نیکی کا نتیجہ نیک اور بدی کا نتیجہ بد ہوگا۔اس کے مطابق اب مسئلہ سزا و جزا کا حل ہو گیا۔اس طرح پر قرآن مجید کی قسمیں بڑے بڑے مسائل کا حل کرتی ہیں۔۳۵ مقامات پر قسمیں آئی ہیں اور وہ حقیقت مدعا کی مثبت ہیں۔وَالْعَصْدِ میں جو قسم ہے وہ بھی ایک امر کی مثبت ہے۔فرما یا عصر کو دیکھو۔انسان گھٹیل حالت میں ہے۔ہر گھڑی جو اس پر آتی ہے وہ اس کو کچھ کم ہی کرتی ہے۔ماں کے ہاں جب بچہ پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ ایک دو سال کا ہوتا ہے تو لوگ مبارک باد دیتے ہیں کہ بچہ بڑا ہو گیا مگر غور کروتو دو سال اس کی عمر سے کم ہو گئے اور دن بدن وہ گھٹتا جاتا ہے۔انسان گویا برف کا سوداگر ہے ہر لحظہ اس کو کم کر رہا ہے اسی طرح پر انسان کی عمر گھٹتی چلی جاتی ہے تو اب سوال ہوتا ہے کہ کیا اس کی تلافی کا بھی کوئی انتظام ہے خواہ عصر کے کچھ ہی معنے کر و۔یہاں بتایا ہے کہ اس کی تلافی کی صورت ہے وہ کیا ؟ اِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر : ٤) کچھ لوگ ہیں جو گھاٹے سے بچائے جاتے ہیں وہ کون ہیں جو مومن اور اعمال صالحہ کرنے والے ہیں۔اب اگر عصر کے معنی زمانہ کے کرو تو اس سے یہ مراد ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ