حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 331 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 331

حقائق الفرقان ۳۳۱ سُوْرَةُ الْعَصْرِ اور کوشش کریں کہ سب کے کانوں تک اس سورۃ کی آواز ضرور پہنچ جائے جو سنتے ہیں وہ اس شکریہ میں دوسروں تک پہنچائیں یہ بڑی مختصر سورۃ ہے۔پہلی بات اس سورۃ شریفہ میں یہ ہے کہ والعضير عصر ایک زمانہ کو کہتے ہیں۔ہر آن میں پہلا زمانہ فنا اور نیا پیدا ہوتا جاتا ہے۔ہر وقت زمانہ کو فالگی ہوئی ہے۔کل کا دن ۲۶۔دسمبر ۱۹۱۲ ء اب کبھی نہیں آئے گا۔۲۷۔دسمبر ۱۹۱۲ء آج کے بعد کبھی دنیا میں نہ آئے گا۔آج کی صبح اب کبھی نہ آئے گی۔یہ زمانہ بڑا بابرکت ہے۔یہ جو آریہ لوگ کہا کرتے ہیں کہ زمانہ مخلوق نہیں اور جو قدیم ہے وہ فنا نہیں ہوتا۔وَالْعَصْرِ کا الفظ ان کے لئے خوب رد ہے۔میں جس زمانہ میں بولا۔وہ اب چلا بھی گیا۔اور جس میں آگے بولوں گا۔وہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا۔زمانہ کو غیر مخلوق ماننے والوں کے لئے کیسا عمدہ رد ہے۔زمانہ کو جہاں تک لیے جائیں۔ایک حصہ مرتا جاتا ہے۔ایک حصہ پیدا ہوتا جاتا ہے۔اس مرنے اور پیدا ہونے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ایک فائدہ عصر میں یہ ہے کہ ہر ایک وقت جو انسان پر گزرتا ہے اس کو فنا لا زم ہے۔اس طرح انسان کے اجزاء بھی ہر آن میں فنا ہوتے ہیں اور ہر آن نئے اجزاء پیدا ہوتے ہیں۔اس طرح ایک نئی مخلوق بن کر انسان اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔جب میں جوان تھا میرے سب بال سیاہ تھے۔آج کوئی بال سیاہ نہیں۔جب ہم نئی حالت میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔مجھ میں بینائی کی قوت ہے۔اگر بینائی رک جائے تو کیا کیا جائے؟ غرض کہ ہر آن اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔لا الهَ إِلَّا الله کے معنے ہیں کہ ہر آن میں تم ہمارے محتاج ہو۔اگر میر افضل و کرم نہ ہو تو تم کچھ بھی نہیں۔ایک بات عصر میں یہ ہے کہ لوگ زمانہ کو برا کہتے ہیں۔شاعروں نے تو یہ غضب کیا کہ دنیا کا ہر ایک دکھ اور مصیبت زمانہ کے سر تھوپ دیا۔خدا تعالیٰ کا نام ہی درمیان سے نکال دیا۔گردشِ روزگار کی اس قدر شکایت کی ہے کہ جس کی حد نہیں۔گویا ان کا دارو مدار، ان کا نافع اور ضار سب کچھ زمانہ ہی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔زمانہ کی شکایت نہ کرو۔یہ بھی قابل قدر چیز ہے۔عصر کے بعد پھر کوئی وقت نہیں ہوتا۔جو ہم فرض نماز ادا کریں۔میرا یقین ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد کی غرض