حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 330 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 330

حقائق الفرقان ۳۳۰ سُوْرَةُ الْعَصْرِ بڑھ نہیں سکتی جب تک کسی قدر تم صبر سے کام نہ لو۔اور یاد رکھو۔صبر والے کے ساتھ خدا خود آپ ہوتا ہے۔اس واسطے صبر کنندہ کو کوئی ذلت و تکلیف نہیں پہنچ سکتی۔تیسری بات جو میں کہنی ضروری سمجھتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ حضرت صاحب نے ”فتح اسلام میں پانچ شاخوں کا ذکر کیا ہے۔اور ان پانچ شاخوں میں چندہ دینے کی تاکید کی۔مثلاً آپ کی تصانیف کی اشاعت اشتہارات کی اشاعت۔آپ کے لنگر خانہ کو مضبوط کرنے کی تاکید اور مہمان خانہ کی ترقی کی طرف توجہ اور آمد و رفت پر بعض وقت جو خرچ پڑتے ہیں۔ان کے لئے مکان بنانے پڑتے ہیں۔ان میں انفاق کرنے کی تاکید آپ نے فرمائی ہے۔میں اس تاکید پر تاکید کرتا ہوں کہ ہمارا مہمان خانہ کسی قدر آپ لوگوں کی سستی کا مظہر ہے۔میں جس طرح دیکھتا ہوں کہ ایک مدرسہ چلتا ہے۔لنگر اور دینی مدرسہ بہت کمزور رنگ میں ہے۔ہمارے بھائیوں کو توجہ چاہیے کہ ان دونوں امور کی طرف بہت کوشش کریں اور انفاق سے کام لیں۔میں یہ باتیں اس لئے بتاتا ہوں کہ تم کو دین اور دنیا دونوں کا وعظ کروں۔یہ نہیں کہ مجھے دنیا کی غرض ہے۔کیونکہ میری عمر کا بہت بڑا حصہ اللہ کے فضل سے گزرا ہے۔یہ تھوڑے دن جو باقی ہیں۔میں مخلوق سے سوال کرنے میں اپنی ہمت کو ضائع نہیں کرتا۔( بدر جلد ۹ نمبر ۲۳ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۱۰ء صفحه ۴٬۳) يه سورة ( وَالْعَضير ) میں نے بار ہا لوگوں کو سنائی ہے چھوٹی سے چھوٹی سورۃ جو ہر شخص کے لئے بابرکت ہو خدا تعالیٰ کی کتاب میں میرے خیال میں اس کے سوا اور نہیں آئی۔قرآن کریم کے ہر ایک فقرہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل اور محض فضل سے سارے جہان کی تعلیم و تربیت اور پاک تعلیم و تربیت حاصل اور ضرور حاصل ہو سکتی ہے۔مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عادت تھی کہ جب آپس میں ملتے تھے تو اس سورۃ کو پڑھ لیتے تھے۔ممکن ہے کہ میری آواز سب لوگوں کے کان میں نہ پہنچے کیونکہ میں بیمار ہوں۔صبح سے اب تک خطوط پڑھتا تھا تھک گیا ہوں اور بوڑھا بھی ہوں جولوگ دور ہیں اور ان کے کانوں میں میری آواز نہیں پہنچ سکتی ان کے کانوں میں وہ لوگ جو سنتے ہیں پہنچا دیں۔