حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 326 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 326

حقائق الفرقان ۳۲۶ سُوْرَةُ الْعَصْرِ ہمارے افعال برے ہیں جن کا خمیازہ زمانہ میں ہم کو اٹھانا پڑتا ہے۔عصر سے مراد نماز عصر بھی ہے۔اس میں یہ بات سمجھائی ہے کہ جیسے شریعتِ اسلام میں نماز عصر کے بعد کوئی فرض ادا کرنے کا وقت نہیں۔اسی طرح ہر زمانہ عصر کے بعد کا وقت ہے۔جو پھر نہیں ملے گا۔اس کی قدر کرو۔عصر کے معنے نچوڑنے کے بھی ہیں۔گویا تمام خلاصہ اس صورت میں بطور نچوڑ کے رکھ دیا ہے۔غرض عصر کو گواہ کر کے انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ ایک برف کا تاجر ہے۔جو بات لڑکپن میں ہے وہ جوانی میں نہیں۔جو جوانی میں ہے وہ بڑھاپے میں نہیں۔پس وقت کو غنیمت سمجھو۔ائمہ نے بحث کی ہے کہ جو نماز عمد اترک کی جاوے۔اس کی تلافی کی کیا صورت ہے۔؟ سو سچی بات یہی ہے کہ اس کی کوئی صورت سوائے استغفار کے نہیں۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ اس خسر کی تلافی کے لئے فرماتا ہے کہ ایک تو ایمان ہو جس کا اصل الاصول ہے۔لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ۔اسی واسطے میری آرزو ہے کہ ہمارے واعظ اذان کے واعظ ہوں کہ وہ اسلام کا خاصہ ہے۔ایمان کیا ہے۔اللہ کو ذات میں بے ہمتا ، صفات میں یکتا ، افعال میں کیس کی یہ یقین کیا جاوے۔چونکہ اس کے ارادوں کے پہلے مظہر ملائکہ ہیں اس لئے ان کی تحریک کو تسلیم کیا جاوے۔برہمو جو قوم ہے۔یہ بڑی بری زبان کے لوگ ہیں۔اسلام کے سخت دشمن ہیں۔میں حیران ہوتا ہوں۔جب لوگ کہتے ہیں کہ یہ بڑے اچھے ہوتے ہیں۔یہ تو تمام انبیاء کو مفتری قرار دیتے ہیں۔اس سے بڑھ کر اور کوئی گالی کیا ہوسکتی ہے کہ خدا کے راستبازوں کومفتری سمجھا جاوے۔چنا نچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ومن أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا۔(الانعام: ۲۲) ایک برہمو سے میں نے انبیاء کے دعوئی وحی حق کے بارے میں پوچھا۔تو اس نے کہا۔دروغ مصلحت آمیز جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس قوم کو انبیاء کی نسبت کیسا گندہ خیال ہے۔یہ لوگ اللہ کی صفات میں سے ایک صفت يُرْسِلُ رَسُولًا اور اس کے متکلم ہونے کے قائل نہیں اور ملائکہ ماننا شرک ٹھہراتے ہیں۔حالانکہ خدا نے انہیں عِبَادُ كُرَمُونَ - (الانبیاء: ۲۷) فرمایا ہے۔اور جن پر وہ نازل ہوتے ہیں۔ان کی نسبت فرما یا مَنْ يُطِعِ لے اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے۔۲۔رب بندے ہیں۔