حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 325

حقائق الفرقان ۳۲۵ سُوْرَةُ الْعَصْرِ سُوْرَةُ الْعَصْرِ مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ عصر کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔ ۲ تا ۴ ۔ وَ الْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلِحَتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ - ترجمہ ۔ قسم ہے زمانہ کی ۔ بے شک انسان بڑے گھاٹے میں ہے۔ ہاں جنہوں نے سچے دل سے اللہ کو مانا اور بھلے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کرتے رہے۔ اور پیچھے لگے رہے صبر کرانے کے ( یعنی نیکیوں پر جمے رہے اور بدیوں سے بچتے رہے۔ لوگوں سے بھی اس پر عمل کراتے رہے ) ۔ تفسیر۔ گھاٹے سے وہی بچتا ہے جو چار خصلتیں رکھے۔ (۱) ایمان (۲) عمل صالح (۳) حق سکھلائے (۴) صبر کرے اور سکھلائے ۔ ( تشخیذ الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ ۔ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۸۸) دو صحابی آپس میں ملتے تھے تو کم از کم اتنا شغل کر لیتے تھے کہ اس سورۃ کو باہم سناویں۔سواس نیت ہے کہ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (1) (التوبه : ۱۰۰) کے ماتحت رضا مندی کا حصہ مجھے بھی مل جاوے۔ میں بھی تمہیں یہ سورت سناتا ہوں ۔ فقرہ کے عصر کہتے ہیں زمانہ کو جو ہر آن گھٹتا جاتا ہے۔ دیکھو میں کھڑا ہوں ۔ جو فقر میں کھڑا ہوں ۔ جو ھرہ بولا ۔ اب اس لئے پھر وہ وقت کہاں ہے؟ قسم ہمیشہ شاہد کے رنگ میں ہوتی ہے۔ گویا بدیہیات سے نظریات کے لئے ایک گواہ ہوتا ہے۔ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کی عمر گھٹ رہی ہے۔ جیسے کہ زمانہ کوچ کر رہا ہے۔ عصر کی شہادت میں ایک یہ نکتہ معرفت بھی ہے۔ زمانہ کو گالیاں نہیں دینی چاہئیں ۔ جیسا کہ بعض قوموں کا قاعدہ ہے فارسی لڑ ، ہے فارسی لٹریچر میں خصوصیت سے یہ برائی پائی جاتی ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں آیا ہے۔ لَا تَسُبُّوا الدهر خدا جس کو گواہی میں پیش کرے۔ وہ ضرور عادل ہے۔ زمانہ برا نہیں۔ لے اور ان کی اچھی پیروی کرنے والے لوگ ۔ اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ۔