حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 319
حقائق الفرقان ۳۱۹ سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ میں نے اپنے بچوں کو دیکھا ہے کہ اگر گرم غذا انہیں دیں یا ان کا ہاتھ اٹھا کر اس گرم غذا پر رکھیں تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور کھاتے نہیں کیونکہ انہیں صحیح علم حاصل ہو جاتا ہے۔جولوگ قرآن مجید کو خدا کی سچی کتاب اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا سچا رسول اور نبی یقین کرتے ہیں۔ائمہ کوسچا سمجھتے ہیں۔کسی واعظ کو سچا سمجھتے ہیں وہ سوچیں کہ کیا ان لوگوں کے ذریعہ سے انہیں صحیح علم حاصل نہیں ہوا کہ اِن اِن کاموں سے خدا راضی ہے۔اور اِن اِن باتوں سے ناراض ہے؟ پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ باوجود سننے کے بھی تم علم کے خلاف کرتے ہو۔خوب یا درکھو کہ صحیح علم کے خلاف کرنا بہت برا ہوتا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین رب العالمین ہمارار ہبر ہے اور ہمارے زمانہ کا امام اس کی اتباع کو نجات کا موجب سمجھتے ہیں۔پھر یہ کیسا علم ہے جو ان سب باتوں سے ہمیں غافل کر دیتا ہے۔دنیوی کاموں میں مختلف اغراضوں میں کچہریوں میں جھوٹی قسمیں، حرفہ، پیشہ ، تجارت، ملازمت میں ایسے اعمال کہ گویا اللہ پر ایمان نہیں۔یہاں تک کہ نمازوں میں بھی ریا۔یہ کیا سر ہے۔سچ تو یوں ہے کہ یقین کم ہے۔كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ لَتَرَوُنَ الْجَحِيمَ - (التكاثر ٢، ٧) ل تم لوگ اگر یقین رکھتے تو جزا سزا کا خیال رکھ کر برے کاموں سے نفرت اور اچھے کاموں سے محبت رکھتے۔ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ - (التكاثر: ٨) اور یاد رکھو کہ یہ صرف علم ہی نہیں رہے گا بلکہ تمہیں یہ بھی دکھاویں گے کہ تمہارے اعمال کا کیا نتیجہ ہے۔لے نہیں نہیں معلوم کرو کہ اگر تم یقینی طور پر جانتے ( تو یہ کفر کی حالت نہ رہتی )۔جس کے سبب سے تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔۲۔ہاں پھر اس کو یقین کی آنکھوں سے دیکھو گے۔