حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 318

حقائق الفرقان ۳۱۸ سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ جائے تو وہ جنون ہوتا ہے۔ضرورتیں تو بے شک انسان کو بہت لگی ہوئی ہیں۔خواہ کتنے ہی امور کیوں نہ ہوں اور خواہ کیسی ہی حاجتیں کیوں نہ ہوں۔ان تمام کاموں میں انسان تکاثر کو چاہتا ہے۔اکثر اوقات انسان چاہتا ہے کہ عیش و عشرت کے ایسے ایسے سامان میسر آجاویں۔ایسا مکان ہو۔ایسا لباس ہو۔اور یہ سب خواہشات انسان کے شامل حال ہیں۔پھر ان میں غلطی کیا ہے؟ خدا تعالیٰ نے بھی ایک دعا سکھائی ہے یعنی ربنا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ (البقرہ:۲۰۲) اس دعا میں اللہ کریم سے اسی دنیا میں حسنہ مانگی گئی ہے۔مگر یا درکھو غلطی صرف یہ ہے کہ ناجائز طریقوں سے یہ خواہشات پوری کرنے کی کوشش کی جاوے۔اور ان دھندوں میں پھنس کر اپنے مولیٰ سے انسان غافل ہو جاوے۔اللہ جل شانہ سے غفلت بہت بری بلا ہے۔اکثر انسان آنکھیں بھی بند کیا کرتے ہیں۔اپنے گھٹنوں میں سر بھی رکھا کرتے ہیں۔نادان سمجھتا ہے کہ یہ جناب البی میں دھیان لگائے بیٹھے ہیں اور روحانی نظارہ دیکھ رہے ہیں۔مگر وہ وہی دیکھتا ہے جو ظاہراً دیکھنے کا عادی ہے۔پھر اسی غفلت عن اللہ میں مرجاتا ہے۔كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ اس غفلت کا بدنتیجہ تم سمجھ ہی لو گے۔پھر ہم ہشیار کر کے تمہیں کہتے ہیں کہ تم ضرور سمجھ لو گے آج جو فعل انسان کرتا ہے۔کل کے لئے یہ ایک سبب ہوتا ہے۔اور کل جو فعل انسان کریگا۔وہ پرسوں کے لئے ایک سبب ہوگا۔انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ جب کبھی اسے کوئی علم حاصل ہو جاتا ہے۔بشرطیکہ وہ علم صحیح ہواور علم والا عقلمند ہو تو پھر اس علم کے خلاف عمل نہیں کرتا۔انسان کیا بلکہ حیوان بھی ایسا نہیں کرتا۔دیکھو ایک اونٹ کتنا بڑا حیوان ہے۔مگر ایک بچہ بھی نکیل ڈال کر کہیں کا کہیں لئے پھرتا ہے مگر ایک گڑھے میں داخل کرنے کے لئے اسے کھینچیں تو وہ نہیں جاتا۔کیوں نہیں جاتا۔صرف اس لئے کہ اسے صحیح علم گڑھے کا حاصل ہے اور یہ کہ اس میں ہلاکت ہے۔