حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 317
حقائق الفرقان ۳۱۷ سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ سُوْرَةُ التَّكَاثُرِ مَكِيَّةٌ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - اُس بابرکت اللہ کے اسم شریف سے پڑھتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے۔۲ تا ۹ - اَلْهُكُمُ التَّكَاثُرُ - حَتَّى زُرتُمُ الْمَقَابِرَ - كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ۔ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ - كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ لَتَرَوْنَ الْجَحِيمَ - ثُمَّ لَتَرَوْنَهَا عَيْنَ الْيَقِينِ۔ثُمَّ لَتُسُلُنَ يَوْمَبِذٍ عَنِ النَّعِيمِ۔ترجمہ۔تم کو بہتات کی ہوس نے تباہ کر رکھا ہے۔یہاں تک کہ تم قبروں کی جگہ سے جاملو نہیں نہیں آگے چل کر تمہیں معلوم ہوگا۔پھر تم جان جاؤ گے۔نہیں نہیں معلوم کرو کہ اگر تم یقینی طور پر جانتے تو یہ کفر کی حالت نہ رہتی )۔جس کے سبب سے تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔ہاں پھر اس کو یقین کی آنکھوں سے دیکھو گے۔پھر تم سے اُس دن باز پرس ہوگی نعمتوں کی۔تفسیر۔اللہ جل شانہ نے انسان کو ایسا تو بنایا ہے کہ یہ کھانے کا بھی محتاج ہے۔پینے کا بھی محتاج ہے۔کپڑے کا محتاج ہے۔مکان اور بیوی کا بھی بہت محتاج ہے۔بچوں کی بھی ایک حاجت مخفی در مخفی رکھتا ہے۔عزت کو بھی چاہتا ہے اور ذلت سے بھی بچنا چاہتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی خواہشیں لگارکھی ہیں۔جس سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا۔ہاں اگر کوئی پاگل ہو تو اور بات ہے۔پاگل اور عقلمند میں بھی ایک بڑا بھاری فرق ہے۔پاگل کی باتیں سن سن کر عقلمند بول اٹھا کرتے ہیں کہ یہ تو بڑا احمق ہے۔بہت بولتے رہنا اور زیادہ بکواس کرتے رہنا بھی احمق کا کام ہے۔اور جو آٹھوں پہر چپ رہے۔وہ بھی پاگل ہوتا ہے۔بہت بولنا اور بہت چپ پاگل اور احمق کا نشان ہے۔جو شخص ہمیشہ کھانے پینے میں مصروف رہے وہ بھی پاگل اور جو نہ کھائے وہ بھی پاگل۔غرض جب بات حد سے بڑھ