حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 306
حقائق الفرقان سُورَةُ الزِلْزَالِ یہ انتقال معدنیات کے قسم سے بھی ہیں اور علوم وفنون کے قسم سے بھی ہیں۔جس قدر معد نیات اس وقت میں نکلے اور نکل رہے ہیں۔اس کی نظیر اگلے زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔اور جس قدر علوم وفنون اہلِ ارض کے ہاتھوں سے ملائکتہ اللہ کی تحریکات سے اب ظاہر ہورہے ہیں۔اس کی بھی نظیر سابقہ زمانہ میں پائی نہیں جاتی۔چوتھی آیت میں جو وَ قَالَ الْإِنْسَانُ مَا لھا ہے۔اس سے زیادہ تر رحجان اسی بات کا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات قبل از قیام ساعت دنیا ہی میں ہو نیوالے ہیں۔کیونکہ انسان کا استعجاب سے ما کها کہنا۔دنیوی روز افزوں ترقیات و عجائبات کے ظہور کی وجہ سے ہوگا۔آخرت میں بعث بعد الموت کے وقت تو تمامی امور سب پر حق الیقین کے طور پر کھل جاویں گے۔اس وقت انسان تعجب کا کلمہ نہیں کہے گا بلکہ يكيتنِي قَدَّمُتُ لِحَيَاتِي - الفجر :۲۵) کہے گا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۹) ۶،۵ - يَوْمَبِذٍ تُحَدِثُ أَخْبَارَهَا بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا - ترجمہ۔اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔اس لئے کہ تیرے رب نے اس کو وحی کی۔تفسیر۔اہل ارض جس قدر اپنے اخبار اس وقت شائع کر رہے ہیں۔وہ ظاہر ہے۔جس قدر بار یک در بار یک علوم وفنون اہل ارض اس وقت ظاہر کر رہے ہیں۔یہ ملائکتہ اللہ ہی کی تحریک کے نتائج ہیں یہ ایسی وحی ہے جیسے کہ شہد کی مکھی (محل) کی وحی۔وحی کے معنے صرف لطیف، رموز و اشارات و کنایات کے ہیں۔وحی کے تین مراتب سورة الشوری میں مَا كَانَ لِبَشَرٍ آن يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَّا (الشوری: ۵۲) میں بیان ہوئے ہیں۔یہاں صرف لغوی معنے وحی کے مراد ہیں۔اور دوسری اور تیسری قسم وحی کی یہی مراد لی جاوے تو بھی صحیح ہوسکتی ہے۔کیونکہ نزول ملائکہ کے ساتھ الروح کے بھی نزول کا ذکر ہے جو ملائکہ کے سردار ہیں۔اور سردار سرداروں سے ملا کرتے ہیں۔مشہور قول ہے کہ ” جیسی روح ویسے فرشتے“۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۹ ستمبر ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۹) اس آیت پر اعتراض کرتے ہوئے ایک آریہ نے اعتراض کیا کہ : لے اے کاش میں کچھ تو بھیجتا آگے اپنی اس زندگی کے لئے۔