حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 305
حقائق الفرقان ۳۰۵ سُوْرَةُ الزِلْزَالِ و، سُوْرَةُ الزِلْزَالِ مَكيَّة بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم پڑھنا شروع کرتے ہیں سورہ زلزال کو اس اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔۲ تا ۴- إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَ اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا - ترجمہ۔جب زمین ہلا دی جائے گی اُس کے زلزلے سے۔اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہوا۔تفسیر۔زمینی تزلزل اور اور اخراج اثقال کے معنے دوطرح پر ہیں۔ایک تو قیامت کو زمین کا سخت بھونچال ہونا اور تمامی مدفونوں کا باہر نکلنا اور دوسرے معنے یہ کہ الارض سے مراد اہلِ ارض ہیں۔جیسا کہ فَلْيَدعُ نَادِيَہ۔(العلق : ۱۸ ) میں نادی سے اہلِ نادی مراد ہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ /اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۸) زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا سے مراد ہے کہ خوب زور شور کی جنبشیں اہلِ ارض میں پیدا ہوں گی۔در اصل اس سورہ شریفہ کے الفاظ سورہ القدر کے بیان کے مفسر ہیں۔سورۃ القدر میں فرمایا تھا کہ تَنَزَّلُ الْمَلَيكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ - (القدر : ۵ ) یعنی قابل قدر زمانہ میں فرشتوں کا نزول کثرت سے ہوگا۔اور الروح جو فرشتوں کے سردار ہیں ان کا بھی نزول ہوگا۔اس جگہ آیت نمبر ۳ میں وَ اخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالها فرما کر یہ ظاہر فرمایا کہ فرشتوں ہی کی تحریکات سے اہلِ ارض زمین سے ہر قسم کے انتقال باہر نکال دیں گے۔ا چاہئے کہ وہ بلا لیں اپنے ہم نشینوں کو۔سے اس میں فرشتے اور کلام الہی اپنے رب کے حکم سے اترتے ہیں۔