حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 304
حقائق الفرقان ۳۰۴ سُورَةُ الْبَيِّنَةِ سکتی تھیں جب تک البينة نہ آوے۔چنانچہ وہ موعود البينة (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) آئے اور آپ نے دنیا کو اس گند اور ناپاکی سے پاک کیا۔جس میں وہ مبتلا تھی۔البيئة کے معنی خود قرآن مجید نے کر دیئے ہیں۔رَسُولُ مِنَ اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةٌ یعنی وہ اللہ کا موعو د رسول جوان پر پاک صحیفے پڑھتا ہے۔کتب مقدسہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو پیشگوئی کی گئی تھی۔اس میں یہی لکھا تھا کہ میں اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا۔اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دعا کی تھی۔اس میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ ایسا رسول مبعوث فرما۔جو تیری آیتیں ان پر تلاوت کرے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر میں بار بار آیا ہے۔يَتْلُوا عَلَيْهِم ايته ( جمعه : ۳) غرض وہ کامل اور خاتم رسول آ گیا اور وہ پاک صحیفے ان پر تلاوت کرنے لگا۔مگر با وجود اس کے کہ زمانہ کی حالت طبعی اور قوموں کی عملی اور اعتقادی سخت تقاضا کر رہی تھی کہ ایک زبر دست رسول آئے اور خود اہلِ کتاب بھی تو رات اور صحائف انبیاء اور عہد جدید کی پیشگوئیوں کے موافق منتظر تھے کہ مثیل موسی اور مبشر عیسی ( فارقلیط ) آنے والا ہے۔مگر جب وہ آ گیا تو بغض وحسد سے انکار کر دیا۔حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ضرورت نبوت کے وہ قائل اور مثیل موسی اور مبشر عیسی کے وہ منتظر اور پھر آنیوالے نے کوئی نئی تعلیم نیا مذ ہب پیش نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاک صحیفے ان پر تلاوت کرتا ہے۔اور تمام دنیا کی صداقتیں اس کی کتاب میں موجود ہیں۔فِيهَا كُتُبْ قَيَّمَةٌ یعنی قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے کہ تمام دنیا کی الہامی کتب کی جمیع محکم اور مستقل صداقتیں اس میں موجود ہیں۔یہ آیت بتاتی ہے کہ قرآن مجید تمام کتب سابقہ پر شامل اور جامع اور مہیمن کتاب ہے اور ہر قسم کی تحریف و تبدیل، ترمیم و تنسیخ سے پاک اور خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الکتاب ہے۔بہر حال اس نبی نے کوئی نئی تعلیم پیش نہیں کی اور کہا کہ مَا كُنتُ بِدُعا من الرُّسُلِ (الاحقاف : ۱۰) اور وہی تعلیم دی جو سب نبی دیتے آئے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔اخلاص کے ساتھ اپنی عملی اور اعتقادی حالت کی اصلاح کرو۔شرک چھوڑ دو۔نمازیں پڑھو اور زکوۃ دو۔کیونکہ یہی دین قیم ہے اس طرح پر ان پر اتمام حجت کیا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۲۲ /اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۸) لے تو کہہ دے میں نیا اور انوکھا رسول تو نہیں ہوں۔