حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 21 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 21

حقائق الفرقان فَزَادُوهُمْ رَهَقًا - ۲۱ سُوْرَةُ الْجِنِّ وَ أَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ ترجمہ ۔ اور یہ بھی کہا کہ بہت سے بنی آدم مردوں میں سے جنات مردوں کی پناہ لیا چاہتے تھے تو ان آدمیوں نے جنات کا غرور زیادہ کیا۔ تفسیر۔ عوام خواص کے رعب میں آئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس واسطے خواص کا تکبر اور سرکشی بڑھ جاتی ہے۔ وَ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدُ نَهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَ شُهَبًا - (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۱۲ ء صفحه ۲۹۱) ترجمہ ۔ اور ہم آسمانی باتوں کی طرف غور کرتے رہے ہیں ۔ تو اس کو پایا بھر اسخت چوکیداروں اور انگاروں سے ۔ تفسیر - أنا لَبَنَا السَّمَاء - مس اور التماس ایک ہی مادہ سے ہیں۔ التماس کے معنے طلب کرنا ، ڈھونڈنا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ منجم تھے۔ آسمانی حالات کو دریافت کیا کرتے تھے۔ حدیث شریف میں بھی ذکر ہے کہ انہوں نے کہا کہ دیکھو آسمان سے تو کوئی نئی بات ظہور میں نہیں آئی۔ مسنا ۔ طلباء نے آسمانی باتوں کے پتہ لگانے کی کوشش کی مگر صرف روشن ستارے ہی نظر آئے ۔ حرس۔ حفاظت (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۲۵ مورخه ۲۸ مارچ ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۱) ١٠ وَ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدُ لَهُ شِهَابًا رَصَدًا - ترجمہ ۔ اور ہم جا بیٹھا کرتے تھے خاص خاص موقعوں پر سنا کرتے تھے۔ تو جو کوئی اب سننے کا قصد کرے تو اپنے لئے انگاروں کو تاک لگائے ہوئے پاتا ہے۔ تفسیر ۔ مَقَاعِد - رصد گا ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ستارے بہت گرے تھے۔