حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 294
حقائق الفرقان ۲۹۴ سُوْرَةُ الْقَدْرِ خشن پوش تھے حریر پوش بن گئے۔نہ مفتوح تھے نہ فاتح۔مگر اس اطاعت کی بدولت دنیا میں فاتح قوموں کے امام خلفاء راشدین اور اعلیٰ مرتبت سلاطین کہلائے۔یہ سب اس کتاب کی برکت تھی جسے اللہ نے ایسی اندھیری رات میں جسے لَيْلَةُ الْقَدْرِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔اپنے بندے پر نازل کیا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ایسے ہی حالات میں ہم میں ایک مجدد کو بھیجا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں شرک کا زور تھا۔سو اس کی تردید میں آپ نے پوری کوشش فرمائی۔قرآن مجید کا کوئی رکوع شرک کی تردید سے خالی نہیں۔اس زمانہ میں لوگوں میں یہ مرض عام تھا کہ دنیا پرستی غالب ہے۔دین کی پرواہ نہیں۔اس لئے آپ نے بیعت میں یہ عہد لینا شروع کیا کہ میں دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔کیونکہ دنیا پرستی کا یہ حال ہے کہ جیسے چوہڑے کا چھرا حلال و حرام جانور دونوں پر یکساں چلتا ہے۔اسی طرح لوگوں کی فکر اور عقل حرام حلال کمائی کے حصول پر ہر وقت لگی رہتی ہے۔فریب سے ملے۔دعا سے ملے۔چوری سے ملے۔سینہ زوری سے ملے کسی طرح روپیہ ملے سہی۔ملازم ایک دوسرے سے تنخواہ کا سوال نہیں کرتے۔بلکہ پوچھتے ہیں بالائی آمدنی کیا ہے۔گو یا اصل تنخواہ آمد میں داخل نہیں۔مسلمانوں پر ایک تو وہ وقت تھا کہ اپنی ولادت ، موت تک کی تاریخیں یاد اور لکھنے کا رواج تھا یا اب یہ حال ہے کہ لین دین شراکت تجارت ہے مگر تحریر کوئی نہیں۔اگر کوئی تحریر ہے۔تو ایسی بے ہنگم جس کا کوئی سر پیر نہیں۔نہ اختلاف کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔نہ اصل بات سمجھ آ سکتی ہے۔ہمارے بھائیوں (احمدیوں ) کو چاہیے کہ وہ امام کے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔دین کو دنیا پر مقدم کروں گا۔پس وہ دنیا میں ایسے منہمک نہ ہوں کہ خدا بھول جاوے۔پھر فرمایا کہ جھوٹے قصے اپنے وعظوں میں ہرگز روایت نہ کرو۔نہ سنو مخلوق الہی کو قرآن مجید سناؤ۔ہدایت کے لئے کافی ہے۔سلیمان کی انگشتری اور بھٹیاری کا بھٹ جھونکنے کا قصہ بالکل لغو اور جھوٹ ہے۔اگر ایک پتھر میں جو جمادات سے ہے اتنا کمال ہے تو کیا ایک برگزیدہ انسان میں جو اشرف المخلوقات ہے۔یہ کمال نہیں ہو سکتا۔انبیاء کی ذات میں کمال ہوتے ہیں۔اسی واسطے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ