حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 290

حقائق الفرقان ۲۹۰ سُوْرَةُ الْعَلَقِ مسخر کیا اور خدمت میں لگا دیا ہے ویسے ہی اس کی ربوبیت نے تقاضا کیا کہ انسان کی روح کی تربیت کے لئے جو اصلی مقصود اور ابدی غیر فانی شے ہے اس کی تربیت کے مناسب حال سامان مہیا کرے۔سو اس کے لئے اس نے نبوت کا سلسلہ اس جہان میں قائم کیا۔اور جہاں نبوت کے اعداء اور مخالفین کو مقابلہ سے ڈرانا چاہا اور ان کے بارے میں خوفناک وعید بیان کرنے چاہے ہیں وہاں نبوت کی حمایت و دفاع میں اسم اللہ کو جو جامع جمیع صفات کا ملہ ہے پیش کیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نبوت کا اصلی مقصد توحید الوہیت کا قائم کرنا اور الہہ باطلہ اور ہر قسم کی طواغیت کا ابطال کر کے خداوند تعالیٰ کے لئے معبودیت اور الوہیت کا یگانہ استحقاق اور لاشریک منصب مخصوص کرنا ہوتا ہے تو جب عداوت اور مخالفت اپنے ہتھیار پہن کر اس کا استیصال کرنے پر آمادہ ہوں۔تب غیرت اور جوش بھی اسی کو آنا چاہیے جس کی خدمت کے لئے نبوت میدان میں نکلی ہے۔بہر حال اس علق اور الانسان کے لفظ میں بڑی بھاری پیشگوئی ہے۔تیسری پیشگوئی۔اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْأَكْرَمُ۔اس میں اشارہ یہ ہے کہ اس سلسلہ تبلیغ میں تیری سخت مخالفت ہوگی اور ایک عالم تجھے ذلیل و خوار کرنے پر آمادہ ہوگا اور حکمت الہیہ کے اقتضاء سے کچھ عرصہ تک بظاہر ایسا ہو گا کہ تو مغلوب اور شکستہ نظر آئے گا اور کفر و شرک اپنی جیت پر ناز کرے گا مگر آخر کار غلبہ اور فتح تیرے حصہ میں آئے گی اور تو اکرم اور عزیز ہوگا۔اس لئے تیرا رب جس نے تجھے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے پرورش کیا ہے وہ اکرم ہے۔لہذا ضروری ہے کہ اس کا مربوب بھی بطور ظل کے اکرم ہو۔چوتھی پیشگوئی۔الَّذِی عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب عجیب میں جو تجھے دی جاتی ہے اور جو بظاہر انسانی قلم سے لکھی جاتی ہے۔وہ وہ علوم عالیہ ہوں گے کہ کل بنی آدم کے معلومات اس کے مقابلہ سے عاجز آ جائیں گے۔الْإِنْسَان سے مَالَمُ يعلم ملا کر یہ ارشاد فرمایا ہے کہ فطرتا اور اکتسابا انسان کی بساط میں اور اس کے قومی کی رسائی میں وہ علوم عالیہ آہی نہیں سکتے۔جن پر قرآن مجید مشتمل ہے۔لہذا یہ علوم لا ریب خدا وند علیم خالق انسان