حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 19 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 19

حقائق الفرقان ۱۹ σ سُوْرَةُ الْجِنِ لیتے ہیں۔خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی کسی ایسی مخلوق کو جس کو ہم دیکھ نہیں سکتے۔انکار کرنا دانشمندی نہیں۔ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ خدا کی ایسی مخلوق دنیا میں موجود ہے جو انسانی نظروں سے پوشیدہ ہے۔اور اسی وجہ سے اسے جن کہتے ہیں۔کیونکہ عربی میں جن اسے کہتے ہیں۔جس میں خفا اور نہاں ہونا پایا جاتا ہے۔جنت۔انسانی نظر سے پوشیدہ ہے۔جنّةٌ ( ڈھال ) جو انسان کو چھپا کر تلوار کے حملہ سے محفوظ رکھتی ہے۔جنین۔وہ بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہے پوشیدہ ہے۔جنون۔عقل کو چھپانے والا مرض۔جن۔انسانی نظر سے چھپی ہوئی مخلوق۔پس جن و ہی مخلوق ہے جو عام انسانی نظر سے پوشیدہ ہو۔خواہ وہ کسی قسم کی مخلوق ہو۔غرض جن ایک مخلوق ہے۔ایک اور بات بھی یہاں بیان کر دینے کے قابل ہے کہ احادیث میں جن کا لفظ سانپ، کالے کتے ، مکھی، بھوری چیونٹی، وبائی ،جرمز، بجلی، کبوتر باز ، زقوم، بائیں ہاتھ سے کھانے والا، گدھا، بال پراگندہ رکھنے والا، غراب، ناک یا کان کٹا ، شریر، سردار وغیرہ پر بھی بولا گیا ہے۔ان تو جیہات پر غور کرنے سے ان مفاسد اور مضاد کی حقیقت بھی معلوم ہو جاتی ہے۔جو جنون سے منسوب کی جاتی ہے۔اب اس بیان کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ قرآن کریم میں یہاں جو ذ کر کیا گیا ہے۔اس سے کیا مراد ہے؟ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔نصیبین ایک بڑا آبادشہر تھا۔اور وہاں کے یہود جن کہلاتے تھے اور سوق عکاظ ( ایک تجارتی منڈی کا نام ہے ) میں آیا کرتے تھے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے نا امید ہو کر طائف تشریف لے گئے اور وہاں کے شریروں نے آپ کو دُ کھ دیا۔آپ عکاظ کو آ رہے تھے۔راستہ میں بمقام نخلہ یہ لوگ آپ سے ملے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کی نماز پڑھا رہے تھے۔قرآن مجید کو سن کر وہ رقیق القلب ہو گئے۔سب کے سب ایمان لے آئے اور جا کر اپنی قوم کو بھی ہدایت کی۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۱ نمبر ۱۶ مورخه ۱۸ جنوری ۱۹۱۲ء صفحه ۲۹۰)