حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 18 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 18

حقائق الفرقان ۱۸ سُوْرَةُ الْجِنِ سَمِعْنَا كِتبًا أُنْزِلَ مِنْ بَعْدِ مُوسى (الاحقاف : ۳۱) کہا۔جن کے مد مقابل انسان ہیں۔انس غریب لوگ۔جن بڑے لوگ۔سورة الحجر بیچ میں انسان اور جان دونوں کی پیدائش کا ذکر ایک ساتھ ایک ہی آیت میں یکے بعد دیگرے آیا ہے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ وَالْجَانَ خَلَقْتُهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ - (الحجر: ۲۷۔۲۸) آدم سے پہلے جان اور اس کی ذریت تھی۔اس سے کسی طرح انکار نہیں ہوسکتا۔اور اب بھی جنات غیر مرئی طور پر موجود ہیں۔کارخانہ قدرت کا انتظام اور انحصار محسوسات اور مرئیات تک ہی محدود نہیں ہے۔اس لئے غیر محسوس اور غیر مشہود و غیر مرئی عالم کا انکار محض حماقت اور نادانی ہے۔اس لئے کہ جوں جوں سائنس ترقی کرتا جاتا ہے۔بہت سی باتیں ایسی معلوم ہوتی ہیں جو اس سے پہلے مانی مشکل تھیں۔دور بین اور خوردبین کی ایجاد نے بتا دیا ہے کہ اس کرہ ہوا میں کس قدر جانور پھر رہے ہیں۔ایسے ہی پانی کے ایک قطرے میں لا انتہا جانور پائے جاتے ہیں۔حیوانات منویہ۔ایک قطرہ منی میں دیکھے جاتے ہیں۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی مخلوق اور انواع مخلوق کی حد بندی محض ناممکن ہے۔اور صرف اپنے محدود علم کی بناء پر انکار محض نادانی ہے۔اس لئے اولاً جنات کے متعلق یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کسی ایسی مخلوق کا جو انسانی نوع سے نرالی ہو انکار کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔اور ہم یہ کہنے کی وجوہات رکھتے ہیں کہ جن اللہ تعالیٰ کی ایسی قسم کی مخلوق ہے جن کو انسان کی ظاہری آنکھیں نہیں دیکھ سکتیں۔اس لئے کہ ان کی مادی ترکیب نہایت ہی لطیف اور ان کی بناوٹ غایت درجہ کی شفاف ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے انسان ان ظاہری آنکھوں سے انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ان کے دیکھنے کے لئے ایک دوسری جس یعنی روحانی آنکھ کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ انبیاء علہیم السلام اور اولیاء اللہ اور مومنین صادقین ملائکہ وغیرہ غیر مرئی مخلوق کو بھی دیکھ لیتے ہیں۔نہ صرف دیکھ لیتے ہیں بلکہ ان سے باتیں بھی ا ہم نے ایک کتاب سنی جو نازل ہوئی ہے موسیٰ کے بعد ۲ بے شک ہم نے آدمی کو بنا یا کھنکھناتی ہوئی مٹی سے جس پر کئی برس گزرے ہوں سیاہ کیچڑ بُودار سے۔اور جن کو انسان سے پہلے ہم نے پیدا کیائو کی آگ سے۔