حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 279
حقائق الفرقان ۲۷۹ سُورَةُ الدِّينِ ۳، ۴۔ وَطُورِ سِينِينَ - وَهُذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ - ترجمہ اور طور سینین کی ۔ اور اس امن والے شہر کی ۔ تفسیر۔ ایک زمانہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نبوتوں کے توسط سے اپنے تخت کو بنی اسرائیل کے لئے طور سینین اور ملک شام کی طرف بچھایا۔ اور اب دوسرے زمانہ میں اپنی حکمت اور مصلحت کی بناء پر بنی اسمعیل اور تمام دنیا کے لئے اپنے تخت کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے بلد اللہ الامین میں تجویز فرمایا۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ را گست ۱۹۱۲ صفحه ۳۳۲) -۵- لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ - ۵۔ ترجمہ ۔ بے شک ہم نے پیدا کیا آدمی کو عمدہ سے عمدہ ترکیب پر۔ تفسیر۔ اَحْسَنِ تَقویم کے لفظ میں یہ بیان فرمایا ہے کہ ذراسی بے اعتدالی سے انسان تقویم کے اعتدال سے یکسو ہو کر جسمانی طور پر بیمار ہو جاتا ہے۔ تین یا زیتون کا نسخہ تجویز کرنا پڑتا ہے۔ ایک سے اچھا نہ ہو تو دوسرا بدلنا پڑتا ہے۔ یہی حال روحانیت کی تقویم کا بھی ہے کہ گناہوں میں مبتلا ہو کر انسان اسفل السافلین میں جا گرتا ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۵ اگست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۲) بعض لوگ احْسَنِ تَقْوِيمٍ (التین : ۵) کے یہ معنے کرتے ہیں کہ انسان کو خوبصورت بنایا مگر بعض انسان تو سیاہ رنگ اور بدصورت بھی ہوتے ہیں۔ بلکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ ہر چیز کو اس کے قابو میں کر دیا۔ سرکس میں کسی نے تماشہ دیکھا ہو گا کہ کیسے کیسے کام جانوروں سے لیتے ہیں ۔ یہ سب اللہ کے الفضل جلد نمبر ۱۸ مورخه ۱۵ را کتوبر ۱۹۱۳ ء صفحه (۱۵) احسان ہیں ۔ - ثُمَّ رَدَدْنَهُ أَسْفَلَ سَفِلِينَ - ترجمہے۔ پھر اس کو پھینک دیا نیچے سے نیچے (اس کی بداعمالی کے سبب سے ) ۔ تفسير رددنہ میں یہ اشارہ فرمایا کہ بادشاہیاں چھن جاتی ہیں ۔ محتاجیوں کے قصر میں جا پڑتے ہیں نبوتیں منتقل ہو جاتی ہیں۔ ایک قوم نالائق ہوتی ہے۔ تو محروم رکھی جاتی ہے اور اس کی جگہ