حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 278 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 278

حقائق الفرقان ۲۷۸ سُورَةُ التَّيْنِ ہاں بلاشبہ زمانے کے دور میں اسمعیل کی اولا دحجاز سے نکل کر تمام عرب میں خلیج فارس تک پھیل گئی۔پس اگر حجاز کے سوا اور جگہ سے پرانے ایسے کھنڈرات ملے ہوں جو بنی اسمعیل کے ناموں کے مشابہ ہوں یا مطابق تو وہ اس نفس الامری بات کو اٹھا سکتے ہیں کہ اسمعیل حجاز میں آباد ہوا۔جو فاران سینا کے مغرب میں ہے۔اور جس کے آثار ملے ہیں۔وہ توریت کا فاران نہیں۔موسیٰ کے زمانے میں اس کا وجود نہ تھا۔موسی مصر سے نکلے اور بحر احمر سے پار ہوئے۔تو شور میں پہنچ کرسن کو طے کر کے افیدیم میں ٹھہرے وہاں کتاب ۲۔۷ لغایت ۸ میں ہے عمالیق آن کر اترے۔اس سے ثابت ہوتا ہے۔عمالیق افیدیم کی نہ تھی۔یہاں یا درکھو کہ افیدیم کوہ سینا کے مغرب اور مصر کے شرق میں ہے۔پھر افیدیم سے موسے مشرق کی طرف سینا کو چلے اور سینا میں پہنچے۔اس سینا کے غربی فاران کا ذکر موسی نے نہیں کیا۔پھر سینا سے آگے بڑھے اور شمال مشرق کو چلے۔اس راہ میں حضرت موسی کہتے ہیں۔بنی اسرائیل بیابان سے نکلے اور بادل بیابان فاران میں ٹھہر گیا۔(گنتی باب ۱۰ آیت ۱۲ ) اس تقریر سے ثابت ہو گیا کہ حضرت موسیٰ کے وقت فاران کوہ سینا کے شمال مشرق میں قادیش کے قریب واقع تھا اور وہی حجاز کا بیابان ہے۔نہ غربی نشیب سینا کا۔البتہ ایسا معلوم ہوتا ہے۔عرب کی ایک قوم جو فاران بن حمیر کی اولاد میں سے تھی اور بنی فاران کہلاتی تھی کسی زمانے میں سینا کے مغرب میں آباد ہوئی اور اس سبب سے وہ مقام فاران مشہور ہو گیا۔یہ وہ فاران نہیں جس کا ذکر تورات میں ہے۔(خطبات الاحمدیہ بتبدیل یسیر) فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ دوم صفحه ۲۰۷ تا صفحه ۲۱۴) تین اور زیتون۔ان دو چیزوں کو قسمیہ بطور شہادت کے اس لئے بیان کیا کہ علاوہ غذا کے جسمانی امراض کے لئے بھی بطور دوا کے یہ دونوں چیزیں استعمال کی جاتی ہیں۔کبھی طبیب تین تجویز کرتا ہے تو کبھی تبدیل نسخہ کے لئے زیتون مفید سمجھتا ہے۔زیتون کو مؤخر اور تین کو مقدم ذکر کرنے کی وجہ انشاء اللہ تعالیٰ آگے بیان ہوگی۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ قادیان مورخه ۱۵ اگست ۱۹۱۲ء صفحه ۳۳۲)