حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 275 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 275

حقائق الفرقان ۲۷۵ سُورَةُ التَّيْنِ کے زمانوں میں یہ قومیں حجاز کی باشندہ تھیں۔کیڈری یعنی قیڈری۔دری مخفف قیدری اور گڈرو نا ئینی یعنی قیداری کد ریتی یعنی قیڈ ری۔دیکھو ہسٹری جغرافیہ جلد اول صفحہ ۲۴۸۔پس بخوبی ثابت ہے کہ قید ارحجاز میں آباد تھا۔کا تری پی کاری نے اپنے نقشے میں قیدار کی آبادی کا نشان ۲۶ و ۲۷ درجه عرض شمالی اور ۳۷ و ۳۸ درجہ طول شرقی کے درمیان میں لگایا۔تیرا بیٹا اردبیل ہے۔بموجب سند جو زیکسن کے ادبیل بھی اپنے ان دونوں بھائیوں کے ہمسائے میں آباد ہوا۔چوتھا بیٹا مبسام ہے مگر اس کی سکونت کے مقام کا پتہ نہیں ملتا۔پانچواں بیٹا مشماع ہے۔مسٹر فاسٹ کا یہ قیاس صحیح ہے کہ عبرانی میں جس کو مشماع لکھا ہے۔اس کو یونانی ترجمہ سبٹو الحینٹ میں مسما اور جوزیفس نے مسماس اور بطلمیوس نے مسمیز لکھا ہے اور عرب میں اسی کی اولا دینی مسما کہلاتی ہے۔پس کچھ شبہ نہیں کہ یہ بیٹا اولاً قریب نجد کے آباد ہوا۔چھٹا بیٹا دو ماہ تھا۔مشرقی اور مغربی جغرافیہ دان قبول کرتے ہیں کہ یہ بیٹا تہامہ میں آباد ہوا تھا۔معجم البلدان میں لکھا ہے کہ دومتہ الجندل کا نام واقدی کی حدیث میں دو ماہ الجندل آیا ہے۔اور ابنِ ثقیفہ نے اس کو اعمال مدینہ میں گنا ہے۔اس کا نام دوم ابن اسمعیل ابن ابراہیم کے نام پر ہوا۔اور زجاجی کہتا ہے کہ اسمعیل کے بیٹے کا نام دومان ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اس کا نام دمہ تھا۔ابن کلبی کہتا ہے کہ دو ماہ اسمعیل کا بیٹا تھا۔جب تہامہ میں حضرت اسماعیل کی بہت سی اولاد ہوگئی تو دو ماہ وہاں سے نکلا اور بمقام دومہ قیام کیا اور وہاں ایک قلعہ بنایا اور اس کا نام دوماہ اپنے نام پر رکھا۔اور ابوعبید سکونی کا قول ہے کہ دومۃ جندل قلعہ اور گاؤں شام اور مدینے کے درمیان میں ہیں۔قریب جبل طی کے اور دومہ وادی قری کے گاؤں میں سے ہے۔مسٹر فاسٹر بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں اور اب تک یہ ایک مشہور جگہ عرب میں موجود ہے۔ساتواں بیٹا مستا تھا۔یہ بیٹا حجاز سے نکل کریمن میں آباد ہوا۔اور یمن کے کھنڈرات میں اب تک مستا کا نام قائم ہے۔کا تری پی کاری نے اپنے نقشے میں اس مقام کا نشان ۱۳ در جے اور ۳۰ دقیقے