حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 276 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 276

حقائق الفرقان سُورَةُ التَّيْنِ عرض شمالی اور ۴۳ درجے اور ۳۰ دقیقے طول شرقی میں قائم کیا ہے۔اسمعیل اور ان کی تمام اولا دحجاز میں تھی۔بلاشبہ جب اولاد جوان ہوئی اور کثرت ہو گئی۔تب مختلف مقاموں میں جا کر سکونت اختیار کی۔مگر عمدہ بات قابل غور یہ ہے کہ سب کا پتہ عرب ہی میں یا حجاز میں یا حجاز کے آس پاس پایا جاتا ہے۔آٹھواں بیٹا حدر۔اس کو عہد عتیق میں حداد بھی لکھا ہے۔یمن میں شہر حدیدہ اب تک اسی کا مقام بتلا رہا ہے۔اور قوم حدیدہ جو یمن کی ایک قوم ہے۔اسی کے نام کو یاد دلاتی ہے۔زہیری مؤرخ کا بھی یہی قول ہے اور مسٹر فاسٹر بھی اس کو تسلیم کرتا ہے۔نواں بیٹا تیا تھا۔اس کی سکونت کا مقام مجد ہے اور بعد کو رفتہ رفتہ خلیج فارس تک پہنچ گیا۔دسواں بیٹا بطور تھا۔مسٹر فاسٹر بیان کرتے ہیں کہ اس کا مسکن جدور میں تھا۔جو جبل کسیونی کے جنوب اور جبل الشیخ کے مشرق میں واقع ہے۔گیارہواں بیٹا نا فلیش تھا۔مسٹر فاسٹر جوزیفس اور تورات کی سند سے لکھتے ہیں کہ عریبیا ڈیزرٹا میں اُن کی نسل کے نام سے آباد تھے۔بارہواں بیٹا قید ماہ۔انہوں نے بھی یمن میں سکونت اختیار کی۔مؤرخ مسعودی نے لکھا ہے کہ اصحاب الرس اسمعیل کی اولاد میں سے تھے اور وہ دو قبیلے تھے۔ایک کو قدمان اور دوسرے کو یامین کہتے تھے۔اور بعضوں کے نزدیک رعویل اور یہ یمن میں تھے۔اب اس تحقیقات سے جو جغرافیے کے رُو سے نہایت اطمینان کے قابل ہے دو باتیں ثابت ہو گئیں ایک یہ کہ حضرت اسماعیل اور ان کی تمام اولا د عرب میں آباد ہوئی اور دوسرے یہ کہ مرکز اس خاندان کی آبادی کا حجاز تھا۔جہاں اسمعیل کی مقدم اولاد کا مسکن ہوا تھا اور پھر اُس مرکز سے اور طرف عرب میں پھیلے۔پس ثابت ہوا کہ حضرت اسمعیل نے حجاز میں سکونت اختیار کی تھی اور اسی کا قدیم نام فاران ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت حبقوق نے اپنی اپنی بشارتوں میں بتایا۔