حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 273
حقائق الفرقان ۲۷۳ سُورَةُ التَّيْنِ تیری اولا د ہے۔مگر مجھے ہاجرہ کے فرزند سے ایک قوم بنانا ہے۔کیونکہ وہ تیرا نطفہ ہے۔علی الصباح ابراہیم نے ہاجرہ اور اسمعیل کو روٹی اور پانی دیگر نکال دیا۔اور انہوں نے بیر شبع پر راستہ گم کیا۔قصہ مختصر خشک بیابان میں تکلیف اٹھاتے اٹھاتے ایک دفعہ پانی سے ناچار ہو گئیں اور درخت کے نیچے بچے کو ڈال دیا۔اور آپ دور جا بیٹھیں تا کہ اس کی پیاس کی موت کو نہ دیکھیں اور آسمان کی طرف منہ کر کے روئیں۔تب فرشتے نے آواز دی۔کیا تو بیمار ہے۔خوف مت کر خداوند نے تیرے بچے کی آواز سن لی۔اے ہاجرہ اٹھ اور بچے کو اٹھا۔اس واسطے کہ میں اسے قوم کا بزرگ بناؤں گا۔اور خدا نے اس کی آنکھیں کھولیں۔تب انہوں نے ایک چشمہ پایا (وہی جسے مسلمان چاہ زمزم کہتے ہیں ) اسمعیل بڑھے اور تیرانداز ہوئے۔حضرت اسمعیل کی والدہ ہاجرہ نے پھرتے پھرتے آخر کہاں مقام فرمایا۔اور کس جگہ سکونت اختیار کی تحقیق طلب بات ہے۔لیکن ہم دعوی کرتے ہیں کہ فاران میدان میں بمقام بیت اللہ مکہ معظمہ میں وہ ٹھہریں اور اس امر کے ثبوت کے لئے وجو ہات ذیل ہیں۔ا۔تو اثر۔اور یہ وہ دلیل ہے کہ اگر اس پر وثوق نہ رہے۔تو پھر تواریخ قدیمیہ کے اثبات کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا۔تو رات کو موسی کی کتاب ما نا تو تواتر سے۔مسیح کو ناصری یا ابن داؤ د مانا تو تواتر سے۔ملکی اور قومی روایات اور مشہورہ حکایات سے جن کا ذکر تواریخ میں اور لوگوں کی زبانوں پر غیر متبدل اور مستحکم چلا آتا ہے۔اس لحاظ سے بھی اس قصے کی تصدیق ضروری اور لا بدی امر ہے۔کیونکہ کسی تاریخی واقعے کی تکذیب کر دینا با ایں کہ وہ عقل کے مخالف نہ ہو اور کسی معلومہ قانون قدرت کو باطل نہ کرے اور ضروری علوم اس کے مخالف نہ ہوں ، سخت غلطی ہے۔پس جبکہ ملکی روایات اور مشہورہ حکایات اور تواریخ قدیمیہ متفقا ثابت کرتے ہیں کہ حضرت ہاجرہ نے وادی مکہ میں سکونت کی اور ملک حجاز۔وہی دشت فاران ہے۔تو کونسی بات ان امور کے قبول کرنے سے ہمیں مانع ہے۔کیا کوئی قانونِ قدرت اسے محال بتلاتا ہے۔یا عقل اس کو باور کرنے سے