حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 17
حقائق الفرقان ۱۷ سُوْرَةُ الْجِنِ سُوْرَةُ الْجِن مَكِيَّةٌ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ہم سورہ جن کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔٢- قُلْ أَوْحَى إِلَى أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرَ مِنَ الْجِنِ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا - ترجمہ۔تو سنا دے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ مجھے ( قرآن ) پڑھتے سن گئے ہیں چند جن پھر انہوں نے کہا ہم نے عجیب ہی قرآن سنا ہے۔تفسیر - اسْتَمَعَ نَفَرَ مِنَ الْجِن - جن اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے۔جیسے ملائک وغیرہ اور اس کی مخلوق ہیں۔میں ہرگز ہرگز اس بات کا قائل نہیں کہ جن اور ملائکہ کوئی چیز نہیں ہیں۔میں دونوں کا قائل ہوں۔لیکن ہر جگہ جن کے لفظ کے وہی ایک ہی معنی نہیں۔اور جو خیال کیا جاتا ہے کہ بعض عورتوں بچوں کو جن چمٹ جاتے ہیں۔میں اس کا قائل نہیں ہوں۔لغت کے رو سے جن ان باریک اور چھوٹے چھوٹے موذی حیوانات کو بھی کہتے ہیں جو غیر مرئی ہیں اور صرف خوردبینوں سے ہی دکھائی دے سکتے ہیں۔طاعون کے باریک باریک کپڑے بھی جن کے نام سے موسوم ہیں۔اسی لئے حدیث شریف میں طاعون کو وَخُذُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِ فرمایا ہے۔( أَحْمَدُ عَنْ أَبِي مُوْسٰى أَشْعَرِى طَبَرَانِي فِي الْأَسَطِ عَنِ ابْنِ عُمَر )۔وَخُز کے معنے نیش زنی اور طعن کے ہیں۔جن لغت میں بڑے آدمیوں کو بھی کہتے ہیں۔جنُ النَّاسِ مُعَظمُهُمْ شاید بڑے پیسے والے ساہوکاروں کو بھی مہا جن اسی واسطے کہا گیا ہے۔کبوتر کے پیچھے دوڑنے والے انسان کو بھی ” جن “ کہا ہے۔سورہ احقاف رکوع ۴ میں ایک قوم کا ذکر ہے۔وَ إِذْ صَرَفْنَا إِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنْ يَسْتَمِعُونَ الْقُرْآنَ - (الاحقاف:۳۰) اس قوم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآن شریف سن کر انا ا اور جب ہم نے پھیرا تیری طرف جنوں میں سے چند آدمیوں کو کہ وہ سننے لگے قرآن کو۔