حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 259 of 620

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۶) — Page 259

حقائق الفرقان ۲۵۹ سُورَةُ الضُّحى سُورَةُ الضُّحَى مَكَّيَّةٌ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ہم پڑھنا شروع کرتے ہیں اس اللہ کے نام سے جو رحمن اور رحیم ہے۔ ، وَالضُّحَى وَالَّيْلِ إِذَا سَجي - ترجمہ ۔ قسم ہے چاشت کے وقت کی ۔ اور قسم ہے رات کی جب سب کو ڈھانک لے۔ تفسیر۔ مٹھی کے معنے سخت روشنی کے ہیں اور کیل سنجی کے معنے سخت اندھیرے کے ہیں۔ یہ دونوں کلمے ایک دوسرے کے متقابل بیان ہوئے ہیں۔ اس لئے کہ آئندہ آنیوالی عبارت میں بھی یتیم ابواے ۔ عیل غنی ۔ اس قسم کے الفاظ اور ان کے معانی و مطالب ایک دوسرے کے متضاد آ پڑے ہیں۔ اس لئے تمہیدی طور پر ان دو کلموں کو قسمیہ شہادت کے طور پر ذکر فرمایا۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۱۲ مورخه ۱۸ اگست ۱۹۱۲ ء صفحه ۳۳۰) مَا وَدَعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَى - ترجمہ ۔ نہ تو تجھے چھوڑا تیرے رب نے اور نہ تجھ سے اکتا یا۔ تفسیر ودع کے معنے دو دوستی کو وداع کرنے اور قطع محبت کر دینے کے ہیں ۔ قلی بمعنی عداوت ۔ دشمنی - بیزاری - كَمَا قَالَ تَعَالَى - إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ الْقَالِينَ ۔ (الشعراء : ١٦٩) وجہ اس سورہ شریفہ کے نزول کی یہ بیان ہوئی ہے کہ چند روزہ فترت وحی کی وجہ سے ابوسفیان کی بہن نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نعوذ باللہ یوں کہا تھا کہ مَا أَرَى شَيْطَنَكَ إِلَّا قَدْ تَرَكَكَ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رنج ہوا اور یہ آیتیں تسلی بخش نازل ہوئیں ۔ اس شانِ نزول کو پیش نظر رکھ کر آیت کریمہ مَا وَدَعَكَ الخ کے ساتھ صلحی اور لَيْلِ سنجی سے مراد چہرہ انور آنحضرت صلی اللہ لے میں تو تمہارے کاموں سے بیزار ہوں ۔ ۲۔ میرا خیال ہے کہ تیرے شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے۔